پاکستان اورآئی ایم ایف کے درمیان با ضابطہ مذاکرات شروع، پاکستان 6 سے 7 ارب ڈالر قرضہ لینے کا خواہاں

ذرائع کے مطابق پاکستان دوست ممالک سے امداد ملنے کے باعث ماضی کے مقابلے میں بہتر پوزیشن میں ہے ، پاکستان کی سٹاک مارکیٹ میں بہتری اور روپے کی قدر بھی قدرے بحال ہوئی ہے

پاکستان اورآئی ایم ایف کے درمیان با ضابطہ مذاکرات شروع، پاکستان 6 سے 7 ارب ڈالر قرضہ  لینے کا خواہاں

آئی ایم ایف کا وفدہیرالڈ فنگر کی قیادت میں مذاکرات کے لیے پاکستان پہنچ گیا، بیل آوٹ پیکیج کیلئے آج سے شروع ہونے والے مذاکرات 2 ہفتے جاری رہیں گے۔ پاکستان آئی ایم ایف سے 6 سے 7 ارب ڈالر تک قرض لینے کے  بارے میں سوچ رہا ہے۔

ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف سے مذاکرات کے لیے دستاویز تیار کرلی گئی ہے، گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ آئی ایم ایف کو پروگرام کی دستاویز پیش کریں گے

ذرائع کے مطابق پاکستان دوست ممالک سے امداد ملنے کے باعث ماضی کے مقابلے میں بہتر پوزیشن میں ہے ، پاکستان کی سٹاک مارکیٹ میں بہتری اور روپے کی قدر بھی قدرے بحال ہوئی ہے۔

پاکستان کے آئی ایم ایف کے وفد سے مذاکرات 2 ہفتے جاری رہیں گے جس کے دوران آئی ایم ایف قرضے کیلئے اپنی شرائط پیش کرے گا، تجزیہ کارپرامید ہیں کہ پاکستان کے ادائیگیوں کے توازن میں بہتری کے بعدآئی ایم ایف نرم شرائط پر قرضہ دے گا جس کے نتیجے میں عوام پر مہنگائی کا زیادہ بوجھ نہیں پڑے گا۔

ذرائع وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ قرض پروگرام کے دوران قرض کی واپسی پر بھی تفصیل دینا ہوگی، قرض کی واپسی کے لیے اصلاحات کا مکمل پلان دینا ہوگا، اس کے علاوہ آئی ایم ایف کے وفد کو گردشی قرضوں اور سبسڈی میں کمی کے لیے بھی اقدامات پر بریفنگ دی جائے گی۔

واضح رہے کہ انڈونیشیا میں وفاقی وزیر خزانہ اسدعمر اور گورنر اسٹیٹ بینک سمیت دیگر حکام نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹین لاگارڈے سے ملاقات کی جس میں آئی ایم ایف سے قرض کے لیے باضابطہ طور پر درخواست کی گئی تھی۔

وزیر خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے ایسا پروگرام لینا چاہتے ہیں، جس سے معاشی بحران پر قابو پایا جاسکے اور جس کا کمزور طبقے پر کم سے کم اثر پڑے۔

واضح رہے کہ حکومت کو اس سال اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے 8 سے 9 ارب ڈالر درکار ہیں۔



متعللقہ خبریں