پاکستان کی اپنی معیشت آئی ایم ایف سےقرضہ لینےکی بجائےدوست ممالک کےتعاون سےبہتربنانےکوترجیح:عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مسائل حل کریں گے، ملکی اقتصادی مسائل کی وجہ سے میڈیا کو بھی مشکلات درپیش ہیں، ملاقات میں میڈیا انڈسٹری کو درپیش چیلنجز اورمختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا

پاکستان کی اپنی معیشت آئی ایم ایف سےقرضہ لینےکی بجائےدوست ممالک کےتعاون سےبہتربنانےکوترجیح:عمران خان

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک کو اقتصادی مشکلات  سے نکالنے کے لیے   دوست ممالک سے رابطہ کر رہے ہیں اور ہمیں توقع ہے کہ ہمارے دوست ممالک  پاکستان کو ان مشکلات سے نکالنے میں مدد کریں گے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہماری کوشش ہے کہ آئی ایم  ایف  سے قرضہ حاصل کرنے  سے گریز کیا جائے ۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار اسلام آباد میں پی بی اے ، سی پی این ای اور اے پی این ایس کے وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔اس ملاقات جس میں   وزیرِ اطلاعات چوہدری فواد حسین، معاون خصوصی برائے میڈیا افتخار درانی، سینٹر فیصل جاوید، سیکرٹری اطلاعات شفقت جلیل بھی موجود تھے   میں انہوں نے کہا کہ   تحریک انصاف کی حکومت تنقید کا خیر مقدم کرتی ہے،میڈیا انڈسٹری کو سپورٹ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ مسائل حل کریں گے، ملکی اقتصادی مسائل کی وجہ سے میڈیا کو بھی مشکلات درپیش ہیں، ملاقات میں میڈیا انڈسٹری کو درپیش چیلنجز اورمختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

عمران خان نے کہا کہ حکومت تعلیم،صحت اور ثقافت پر خصوصی توجہ دے رہی ہے، ان کی کامیابی کی بڑی وجہ میڈیا ہے اسے سپورٹ کریں گے۔وزیراعظم نے نیوز پرنٹ پرعائد پانچ فیصد ڈیوٹی ختم کرنے کا بھی اعلان کیا۔

وفد نے وزیرِ اعظم کو اخباری صنعت اور الیکٹرانک میڈیا کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔ صدر سی پی این ای نے کہا کہ میڈیا کے حوالے سے موجودہ حکومت کی پالیسی عدم مداخلت اور فئیر رہی ہے۔ وزیرِ اعظم نے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ملک اس وقت مشکل دور سے گذر رہا ہے۔ سابقہ حکومتوں نے جس انداز میں سرکاری وسائل اور عوام کے پیسوں کا استعمال کیا اور ملک کو جس دلدل میں دھکیلا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک تیس ٹریلین کا مقروض ہو چکا ہے۔ معیشت کا آج جو حال ہے ایسا ملکی تاریخ میں کبھی نہیں تھا۔ آج قرضوں کی قسطیں ادا کرنے کے لیے چھ ارب روپے روزانہ کی بنیاد پر ادا کرنے پڑ رہے ہیں۔ ماضی کی حکومتوں نے عوام کی بنیادی ضرورتوں کو نظر انداز کیا۔ صحت، تعلیم، انسانی نشوونما جیسے اہم مسائل کو نظر انداز کیا گیا۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے ہم نے کفایت شعاری کی مہم شروع کی۔ جہاں وزیرِ اعظم نے اپنے دفتر سے کفایت شعاری کا آغاز کیا وہاں تمام وزراتوں کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اخراجات میں کمی لائیں۔ قوم کا ایک روپیہ خرچ کرتا ہوں تو تکلیف ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں کروڑوں روپے حکمرانوں کی عیاشیوں اور شاہانہ اخراجات پر خرچ کیے گئے۔ معاشی حالات پر مزید بات کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ موجودہ حالات کے تناظر میں کوشش کر رہے ہیں کہ ایسا حل نکالیں کہ عوام کو کم سے کم تکالیف کا سامنا کرنا پڑے۔ وزیر اعظم نے میڈیا کویقین دلایا کہ موجودہ حکومت کے دورِ حکومت میں میڈیا کو اپنا کام کرنے کی مکمل آزادی میسر آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ جب کبھی میڈیا کی جانب سے ایسی بات دیکھنے میں آتی ہے کہ جہاں ملکی مفاد کا خیال نہیں رکھا جاتا تو وہاں افسوس ہوتا ہے۔



متعللقہ خبریں