حکومت کاگزشتہ دس سالوں کےغیرملکی قرضوں کی تحقیقات کرانےکافیصلہ،وزیراعظم کی قرضوں کےاضافےپرگہری تشویش

وفاقی کابینہ کا اجلاس جمعرات کی صبح وزیر اعظم عمران خان کی صدارت میں ہوا، جس میں معاشی صورت حال کی بہتری کے اقدامات اور آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کی حکمت عملی اور سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیاگیا

حکومت کاگزشتہ دس سالوں کےغیرملکی قرضوں کی تحقیقات کرانےکافیصلہ،وزیراعظم کی قرضوں کےاضافےپرگہری تشویش

وفاقی کابینہ نے گزشتہ دس سال میں لیے غیر ملکی قرضوں کی تحقیقات کرانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ وزیر اعظم نے وزارت خزانہ سے 24ہزار ارب روپے کے قرضوں اور ان کے استعمال کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔

وفاقی کابینہ کا اجلاس جمعرات کی صبح وزیر اعظم عمران خان کی صدارت میں ہوا، جس میں معاشی صورت حال کی بہتری کے اقدامات اور آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کی حکمت عملی اور سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیاگیا۔اجلاس کے دوران وزیر اعظم نے گزشتہ 10 سالوں میں قرضوں کاحجم 6 ہزار ارب روپے سے 30 ہزار ارب روپے تک بڑھنے پر گہری تشویش کااظہار کرتے ہوئے وزارت خزانہ کو ہدایت کی کہ وہ گزشتہ 10 سالوں میں لیے جانیوالے قرضوں کی وجوہات اور اس کے استعمال کا تفصیلی جائزہ پیش کرے ، یہ پیسہ کدھر گیا ، کونسے بڑے منصوبے مکمل ہوئے ، اس سے ملک کو کیا فائدہ ہوا۔ 

 وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ 10 سالوں میں قرضوں کاحجم 6 ہزار ارب روپے سے 30 ہزار ارب روپے تک بڑھنے پر گہری تشویش کااظہار کرتے ہوئے وزارت خزانہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ گزشتہ 10 سالوں میں لیئے جانیوالے قرضوں کی وجوہات اور اس کے استعمال کا تفصیلی جائزہ پیش کیاجائے، ماضی کے قرضوں کی اقساط کی ادائیگی کے لئے مزید قرضے لینے پڑرہے ہیں، نیا پاکستان ہاﺅسنگ منصوبہ نہایت اہم ہے اس کی تکمیل سے ہماری معیشت میں نمایاں بہتری آئے گی۔ جمعرات کو وزیراعظم آفس میں وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے وزارت خزانہ سے قرضوں کی تفصیلات پوچھیں ہیں اور ہدایت کی ہے کہ یہ تفصیلات دی جائیں کہ یہ قرضے کن منصوبوں پر خرچ ہوئے ، اس سے کونسے آبی ذخائر بنائے گئے، یہ پیسہ کدھر گیا ، کونسے بڑے منصوبے مکمل ہوئے، اس سے ملک کو کیا فائدہ ہوا۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ 10 سالوں میں لیئے گئے قرضے 6 ہزار ارب روپے سے بڑھ کر 30ہزار ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں۔ وزیراعظم نے کہاکہ یہاں جو قرضے لئے گئے ان کی اقساط کی ادائیگی کے لئے مزید قرضے لینا پڑرہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ملک مقروض ہے اگرہم نے قرضہ لینا ہے تو کابینہ کو اس بارے میں سوچ بیچار کرنا ہو گی کہ ان قرضوں سے پیسہ جمع ہونا چاہیے تاکہ اس قرضوں کی ادائیگی کے قابل ہوں۔



متعللقہ خبریں