نواز شرف کانیب کےسربراہ کوچیلنج،کیا نیب کےسربراہ ہائی کورٹ کےفیصلےکےبعد مستعفی ہونےکاحوصلہ رکھتےہیں؟

جیل سے رہائی پانے  کے   بعد نواز شریف اپنے ساتھیوں اور  عوام کواس بات سے آگاہ  کریں گے کہ    ان کو جان بوجھ کر  نیب کی جانب سے نشانہ بنایا گیاحالانکہ عدالت اورتمام  وکلا اس بات پر متفق ہیں کہ  نیب  کا کیس بہت کمزور  تھا

نواز شرف کانیب کےسربراہ کوچیلنج،کیا نیب کےسربراہ ہائی کورٹ کےفیصلےکےبعد مستعفی ہونےکاحوصلہ رکھتےہیں؟

اڈیالہ جیل سے رہائی پانے کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف کل بروز ہفتہ سے  اپنی  بھر پور سیاسی سرگرمیوں کاآغازکریں گے۔

جیل سے رہائی پانے  کے   بعد نواز شریف اپنے ساتھیوں اور  عوام کواس بات سے آگاہ  کریں گے کہ    ان کو جان بوجھ کر  نیب    کی  جانب سے نشانہ بنایا گیا   حالانکہ   عدالت اور  تمام  وکلا اس بات پر متفق ہیں کہ  نیب  کا کیس بہت کمزور  تھا  اور نیب   کوئی بھی ٹھوس ثبوت  پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔  

دنیا میں اگر  کسی بھی ادارے کا سربراہ اس قسم کو حرکت کرتا تو اس کو  شرمندگی  کے باعث  اپنے عہدے سے  فوری طور پر استعفی دینا پڑجاتا ہے۔ نیب کے سربراہ  اب کس طرح اپنی شرمندگی چھپائیں گے؟  ان کے لیے  بہترین طریقہ  اپنے عہدے سے مستعفی ہوتے ہوئے   عوام سے  معافی طلب کرنا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ  نیب نے یہ سب کچھ  مختلف عناصر  کے مشوروں سے  صرف  انہیں   پارلیمانی انتخابات  سے دور  رکھنے  اور اقتدار کسی اور کو منتقل کرنے کے مقصد کے لیے کیا۔

انہوں نے کہا کہ  نیب کی اس  بھونڈی  کوششوں پر سے پردہ  اٹھانے کے لیے کل سے اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کر ررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں کل وہ  پارٹی کے اہم عہدے داروں سے ملاقات کررہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سیاسی سرگرمیوں کاآغازکرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف کل جاتی امرا میں پارٹی رہنماؤں سے مشاورت کریں گے اور لاہور میں ضمنی انتخابات پر بھی بات چیت کی جائے گی جبکہ نوازشریف اپنے کیسزکے حوالے سے قانونی ٹیم کیساتھ مشاورت بھی کریں گے۔

واضح رہے کہ 19ستمبر کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایون فیلڈریفرنس میں سزاﺅں کے خلاف اپیل پر سماعت کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر)صفدر کی سزائیں معطل کر کے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا ۔



متعللقہ خبریں