عمران خان حکومت سی پیک منصوبوں کے بارے میں مخمصے کا شکار،مشیرصنعت وتجارت سی پیک کو روکنے کے حق میں

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی  نے سی پیک کے بارے میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ نئی حکومت کی اولین ترجیح ہے جبکہمشیرصنعت وتجارت نے کہا ہے کہ پاکستانی کمپنیوں کو نقصان پہنچ رہاہے جبکہ چینی کمپنیاں ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہیں

عمران خان حکومت  سی پیک منصوبوں کے بارے میں مخمصے کا شکار،مشیرصنعت وتجارت سی پیک کو روکنے کے حق میں

سی پیک کے بارے میں حکومتِ پاکستان شدید مخمصے کا شکار وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی  چین  کے ساتھ نئے سرے سے   مذاکرات شروع کرنے کے خواہاں ہیں تو   دوسری جانب پاکستان کے مشیر صنعت و تجارت عبدالرزاق داود کا کہناتھا کہ سی پیک معاہدوں سے پاکستانی کمپنیوں کو نقصان پہنچ رہاہے جبکہ چینی کمپنیاں ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہیں اس لیے سی پیک منصوبوں کو ایک سال کیلئے روک دینا چاہیے۔   

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی  نے سی پیک کے بارے میں بیان دیتے ہوئے   کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ نئی حکومت کی اولین ترجیح ہےلیکن اس پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے اور چین بھی  پاکستان  کے ساتھ  اس سلسلے میں مذاکرات کے لیے تیار دکھائی دیتا ہے۔

چینی وزیر خارجہ وانگ ای کے دورے کے موقع پر پاکستان اور چین نے اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

مذاکرات میں سی پیک، معاشی و ثقافتی تعاون اور خطے کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں جانب سے پاک چین اسٹریٹیجک تعاون پرمبنی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے عزم اظہار کیا گیا۔

چینی قیادت نے پاکستان کی معیشت کے استحکام کیلئے حمایت کا اظہار کیا اور وزیراعظم عمران خان کو دورہ چین کی دعوت بھی دی۔

دوسری جانب برطانوی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان کے مشیر صنعت و تجارت عبدالرزاق داود کا کہناتھا کہ سی پیک معاہدوں سے پاکستانی کمپنیوں کو نقصان پہنچ رہاہے جبکہ چینی کمپنیاں ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہیں اس لیے سی پیک منصوبوں کو ایک سال کیلئے روک دینا چاہیے ۔جبکہ اسی اخبار نے یہ بھی دعویٰ کیاہے کہ پاکستانی حکومت چین کے ساتھ سی پیک معاہدے پر نظر ثانی کرے گی اور چین نے اس پر آمادگی ظاہر کر دی ہے ۔

برطانو اخبار فنانشل ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے عبدالرزاق کا کہناتھا کہ پچھلی حکومت نے سی پیک معاہدوں میں چین کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے پاکستانی معیشت کے خلاف فیصلے کیے جس کے بعد چینی کمپنیوں کو ٹیکس کی چھوٹ دی گئی جو کہ کسی بھی صورت میں پاکستان کے لیے بہتر نہیں ہوسکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک پر نظر ثانی کا مقصد پاکستانی کمپنیوں کو خسارے سے محفوظ رکھنا ہے۔

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق پاکستانی حکومت چین کے ساتھ ہونے والے سی پیک معاہدوں پر دوبارہ غور کرے گی اور نئے سرے سے شرائط طے کی جائیں گی۔برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی حکومت چین کے ساتھ سی پیک معاہدے پر نظرثانی کرے گی جس میں قرض کی ادائیگی اور منصوبوں کی مدت بڑھانے پر غور کیا جائے گا جب کہ چین نے اس حوالے سے معاہدوں پر دوبارہ مذاکرات کرنے پر آمادگی بھی ظاہر کردی ہے۔

 



متعللقہ خبریں