اسٹبلشمینٹ کی عجلت نون لیگ کی بجائےپی ٹی آئی کولے ڈوبے گی،جسٹس شوکت نےاسٹبلشمینٹ کی قلعی کھول دی

آج صبح ہی  اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا کہنا ہے کہ ’’آج کے اس دور میں آئی ایس آئی پوری طرح عدالتی معاملات میں جوڑ توڑ کرنے میں ملوث ہے

اسٹبلشمینٹ کی عجلت نون لیگ کی بجائےپی ٹی آئی کولے ڈوبے گی،جسٹس شوکت نےاسٹبلشمینٹ کی قلعی کھول دی

پاکستان کی عدلیہ کی جانب سے رات کی تاریکی  حنیف عباسی  کو عمر قید کی سزا نے جسٹس شوکت کے بیانات کے حقیقت پسند ہونے  کا ثبوت فراہم کردیا۔

راولپنڈی کی انسداد منشیات کی عدالت کے جج کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کے بعد حنیف عباسی کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا۔

کیس کی سماعت ہفتہ 21جولائی کی دوپہر 12بجے تک راولپنڈی کی انسداد منشیات کی عدالت کے جج سردار محمد اکرم خان کی سربراہی میں کرنے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا گیا تھا اور رات کی تاریکی میں  عدلیہ نے یہ فیصلہ سناتے ہوئے   ملک میں سیاسی حلقوں میں شک و شبہات  کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

آج صبح ہی  اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا کہنا ہے کہ ’’آج کے اس دور میں آئی ایس آئی پوری طرح عدالتی معاملات میں جوڑ توڑ کرنے میں ملوث ہے‘‘۔

"آئی ایس آئی" والے اپنی مرضی کے بنچ بنواتے ہیں۔ خفیہ ادارے آئی ایس آئی والوں نے ہمارے چیف جسٹس کو اپروچ کر کے کہا نواز شریف اور مریم نواز کو الیکشن سے پہلے باہر نہیں آنے دینا۔‘‘

راول ڈسٹرکٹ بار ایسویسی ایشن کی طرف سے منعقدہ تقریب کے دوران جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ ’’مجھے معلوم ہے کہ احتساب عدالت کی ہر روز کی پروسیڈنگ کہاں پر جاتی رہی ہیں، معلوم ہے کہ سپریم کورٹ کون کس کا پیغام لے کر جاتا ہے‘‘۔

جسٹس صدیقی کا کہنا تھا کہ ’’مجھے نوکری کی پرواہ نہیں۔ یہ کہا گیا کہ یقین دہانی کرائیں کہ مرضی کے فیصلے کریں گے تو آپ کے ریفرنس ختم کرا دیں گے۔ مجھے نومبر تک نہیں ستمبر میں چیف جسٹس بنوانے کی بھی پیش کش کی گئی تھی۔‘‘

اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئر جج کا کہنا تھا کہ ’’میری دانست میں پاکستان ایک کشمکش کے دور سے گزر رہا ہے۔  عدلیہ، فوج، بیورو کریسی اور سیاستدانوں میں سے عدلیہ کو پاکستان کے مسائل کو 50 فی صد سبب سمجھتا ہوں۔ باقی 50 فی صد مسائل دیگر فوج، بیورو کریسی اور سیاستدان ذمے دار ہیں۔

جسٹس صدیقی نے میڈیا کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ’’آج یہ میڈیا والے بھی اپنے گھٹنے ٹیک چکے ہیں اور سچ نہیں بتا سکتے۔ آج یہ بتا دیں کہ آئی ایس پی آر والے انہیں ڈائریکشن نہیں دیتے؟

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے ریمارکس کےحوالے سے سابق چئیرمین پیمرا ابصار عالم نے ’وائس آف امریکہ‘ سے گفت گو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایسا صرف جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو ہی نہیں بلکہ جب وہ چئیرمین پیمرا تھے تو ان پر بھی مختلف ٹی وی اینکرز کے خلاف کارروائی کرنے یا نہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا تھا‘‘۔



متعللقہ خبریں