ڈالر کی آگ نے پاکستانی منڈیوں کوبھسم کردیا ،پاکستانی کرنسی ردی کا ڈھیر، اوپن مارکیٹ میں کاروبار بند

76 پیسے اضافے کے بعد فارن ایکسچینج مارکیٹ میں ڈالر 128 روپے 75پیسے کا ہوگیا جبکہ اوپن مارکیٹ میں ایک ڈالر 129 روپے میں فروخت ہونے لگا۔ واضح رہے کہ دو دن کے دوران انٹربینک میں ڈالر کی قیمت میں 7روپے 20پیسے کا اضافہ ہوا ہے

ڈالر کی آگ نے پاکستانی منڈیوں کوبھسم کردیا ،پاکستانی کرنسی ردی کا ڈھیر، اوپن مارکیٹ میں کاروبار بند

انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 129 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے جس کہ وجہ سے کرنسی ڈیلرزنے اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی خرید وفروخت بندکردی ہے۔

روپےکےمقابلےمیں ڈالرکی اونچی اڑان جاری ہے، انٹربینک میں ڈالرکی قدر میں 76پیسے کا اضافہ ہوگیا۔

76 پیسے اضافے کے بعد فارن ایکسچینج مارکیٹ میں ڈالر 128 روپے 75پیسے کا ہوگیا جبکہ اوپن مارکیٹ میں ایک ڈالر 129 روپے میں فروخت ہونے لگا۔

واضح رہے کہ دو دن کے دوران انٹربینک میں ڈالر کی قیمت میں 7روپے 20پیسے کا اضافہ ہوا ہے۔

اس سے قبل گزشتہ روز انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں روپے کی قدر میں تاریخی کمی آئی اور ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح 128 روپے 26 پیسے تک پہنچا بعد میں کاروبار کےاختتام پر ڈالر کے نرخ 127 روپے 99 پیسے پر بند ہوئے۔

کہا جارہا ہے کہ اسٹیٹ بینک کی ملک کے بیرونی کھاتوں میں عدم توازن کو کم کرنے کی سوچی سمجھی پالیسی کی وجہ سے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں ایک مرتبہ پھر بڑی کمی آئی ہے۔

معاشی ماہرین کاکہناہے کہ پاکستان پر بیرونی قرض کا حجم کم و بیش 89 ارب ڈالر ہے، ڈالر کی قدر میں حالیہ ریکارڈ اضافے کے باعث صرف ایک روز میں قرضوں کا حجم 800 ارب روپے تک بڑھ گیا ہے۔ ڈالر کی قدر میں اس اضافے کے باعث ملک میں مہنگائی کا نیا طوفان آئے گاجبکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافے کاامکان ہے۔

ماہرین کا کہناہے کہ مرکزی بینک نے ظاہر کئے بغیر روپے کی سپورٹ ختم کرکے اس کی قدرکم کردی ہے ۔ اسٹیٹ بینک نے ادائیگیوں کے دباؤمیں توازن لانے کیلئے گزشتہ سال دسمبر میں بھی اسی طرح روپے کی قدر میں پانچ فیصد کمی کی تھی۔

فاریکس ڈیلرزاور ماہرین نے اس شک کا اظہار کیا کہ ڈالرکی قیمت میں اضافے کی وجہ عالمی مالیاتی اداروںسے قرضوں کی ادائیگی کے لیے کیے گئے وعدے ہیں‘ آئی ایم ایف اس بات کی جانب اشارہ کرتا رہا ہے کہ ڈالر کی موجودہ قیمت اس کی قدر کی صحیح عکاسی نہیں ۔



متعللقہ خبریں