نوازشریف اورمریم نوازکاپاکستان میں گرفتاری سےپاکستانی کی سیاسی تاریخ کا رخ تبدیل،اسٹبلشمنٹ مخمصے میں

یہ دونوں رہنماوں کا ایسا فیصلہ ہے جس کی پاکستان کی  سیاسی تاریخ میں اس سے قبل کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس سے قبل پاکستان میں عدالتوں کی جانب سے گرفتاری کےآرڈرایشو کیےجانے کےباوجود آج تک کسی بھی سیاسی یا فوجی رہنما نے گرفتاری کے لیے اپنےآپ  کو پیش نہیں کیا ہے

نوازشریف اورمریم نوازکاپاکستان میں گرفتاری سےپاکستانی کی سیاسی تاریخ کا رخ تبدیل،اسٹبلشمنٹ مخمصے میں

پاکستان کی ایک احتساب عدالت سے سزا یافتہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز نے آیندہ جمعہ  13 جولائی کو وطن واپس آنے کا اعلان کیا ہے ۔

یہ دونوں رہنماوں  کا ایسا فیصلہ ہے جس کی پاکستان کی  سیاسی تاریخ میں  اس سے قبل کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس سے قبل پاکستان میں عدالتوں کی جانب سے  گرفتاری کے آرڈر ایشو کیے جانے کے باوجود آج  تک کسی بھی سیاسی  یا فوجی رہنما نے گرفتاری کے لیے اپنے  آپ  کو پیش نہیں کیا ہے۔  پاکستان کے کمانڈو  چیف ایگزیکٹو   اور  صدر پرویز مشرف ،  ایم کیو ایم  کے رہنما  الطاف حسین اور دیگر سیاسی رہنماوں  کی   مثالیں  سب کے سامنے ہیں۔

نواز شریف اور مریم نواز   کا وطن واپسی  پر اپنی گرفتاری دینے کا فیصلہ  مسلم لیگ نون   کے آئندہ انتخابات میں کامیابی کی کنجی قرار دیا جا رہا ہے۔

وطن واپسی پر لاہور ائیر پورٹ  اگر لاہور کے عوام  دونوں رہنماوں کے استقبال  کے لیے لاکھوں کی تعداد میں پہنچنے میں کامیاب  ہوگئے تو یہی مسلم لیگ نون کی  آئندہ  انتخابات میں کامیابی کو وسیلہ ثابت ہوگا تاہم ملک کی اسٹبلشمنٹ  ہر  صورت  دونوں رہنماوں  کو  عوام تک پہنچنے سے روکنے کے لیے اپنی بھر پور توانائیاں صرف کررہی ہے۔

پاکستان کے سابق وزیرِاعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز رواں ماہ کی 13 تاریخ کو پاکستان آنے کا ارادہ رکھتے ہیں جہاں آمد پر انھیں گرفتار کر لیا جائے گا۔

 

یاد رہے کیپٹن (ر) صفدر کو نیب پہلے ہی راولپنڈی  میں ایک  جلسے کے بعد   اپنی گرفتاری  پیش کرچکے ہیں۔ انھوں نے راولپنڈی میں ریلی کی صورت میں جمع کارکنان کے ہجوم میں گرفتاری دی تھی۔

ایسا ہی کچھ ن لیگ نواز شریف اور مریم نواز کی آمد پر چاہے گی کہ انھیں کارکنان کے درمیان سے گرفتار کیا جائے جس سے ان کو سیاسی فائدہ ہونے کی توقع ہے۔   

مسلم لیگ ن نواز شریف اور مریم نواز کے لاہور میں بڑے پیمانے پر استقبال کے لیے پُرعزم نظر آتی ہے۔ پورے ملک سے کارکنان کو تیار کرنے کا بندوبست سینیٹر راجہ ظفرالحق کی قیادت میں ایک کمیٹی کے حوالے کیا گیا ہے۔

ن لیگ کی جانب سے نواز شریف کی 85 سالہ والدہ شمیم اختر کی طرف سے بھی یہ بیان سامنے آیا ہے کہ وہ نواز شریف کو گرفتاری سے بچانے خود لاہور ایئر پورٹ جانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ ’میں نواز کو گرفتار نہیں ہونے دوں گی۔ اگر گرفتار کیا تو میں بھی ساتھ جاؤں گی۔

دریں اثنا مریم نواز  نے  لندن میں صھافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم بھاگنے والوں میں سے نہیں ہیں  ہم ان دس روز کی مدت ختم ہونے سےقبل ہی وطن لوٹ جائیں گے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ قومی احتساب بیورو ( نیب ) اس بات سے آگاہ ہے کہ ایون فیلڈ جائیداد وں کو ضبط نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ان کی خریداری کے عمل میں برطانیہ کا کوئی قانون نہیں توڑا گیا تھا لیکن اس کے باوجود اگر برطانیہ میں حکام کوئی کارروائی کرتے ہیں تو اس کا شریف خاندان ہی کو فائدہ ہوگا کیونکہ تحقیقات سے معاملات بالکل واضح ہوجائیں گے۔

مقامی ذارئع ابلاغ کے مطابق نیب پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل نے نیب کے چیئرمین کو لکھے ایک خط میں نواز شریف اور مریم نواز کے گرفتاری کے بعد لاہور سے راولپنڈی اڈیالہ جیل منتقل کرنے کے لیے ہیلی کاپٹر طلب کیا ہے۔

تجویز کے مطابق نواز شریف اور مریم نواز کو ایئر پورٹ کے اندر ہی سے حراست میں لیا جائے اور لاہور سے سیدھا اڈیالہ جیل راولپنڈی منتقل کر دیا جائے۔

تاہم گرفتاری کے بعد انھیں عدالت کے سامنے پیش کرنا ضروری ہے کیونکہ عدالت کے حکم نامے کے بغیر جیل حکام انھیں قید نہیں کر سکتے۔

 



متعللقہ خبریں