آصف علی زرداری عدلیہ کے سامنے ڈٹ گئے، انتخابات کے بعد ہی منی لانڈرنگ کیس میں پیش ہونے کا فیصلہ

دونوں رہنماوں نے   انتخابات کے بعد ہی   عدلیہ کے ربرو پیش ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پی پی رہنما اور سینئر وکیل فاروق ایچ نائیک کے دو جونئیروکیلوں نے    آصف علی زرداری اورفریال تالپورکی جانب سے تحریری بیان جمع کرادیا

آصف علی زرداری عدلیہ کے سامنے ڈٹ گئے، انتخابات کے بعد ہی منی لانڈرنگ  کیس میں  پیش ہونے کا فیصلہ

پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپورایف آئی اے اسٹیٹ بنک سرکل میں پیش  نہ ہونے سے معذرت کرلی۔

دونوں رہنماوں نے   انتخابات کے بعد ہی   عدلیہ کے ربرو پیش ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پی پی رہنما اور سینئر وکیل فاروق ایچ نائیک کے دو جونئیروکیلوں نے    آصف علی زرداری اورفریال تالپورکی جانب سے تحریری بیان جمع کرادیا۔

سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کو منی لانڈرنگ کیس میں ایف آئی اے اسٹیٹ بنک سرکل نے آج بیان ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کیا تھاتاہم سینئر وکلاء کی جانب سے سابق صدر کو آج پیش نہ ہونے کے مشورے کے بعد ان کی قانونی ٹیم ایف آئی اے کے سامنے پیش ہوئی۔

ایف آئی اے نے تحقیقات کے لیے7 رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جب کہ سپریم کورٹ نے اسی کیس میں سابق صدر آصف زرداری اور فریال تالپور کو 12 جولائی کو طلب کرلیا ہے۔

اس سے قبل پیپلزپارٹی کی قیادت نے منی لانڈرنگ کیس میں ایف آئی اے میں طلبی کے معاملے پر سینئر وکلاء سے مشاورت کی تھی۔

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی نےآصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کو گرفتار نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

یادرہے عدالت نے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ سے متعلق کیس میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے چیئرمین اور آصف زرداری کے قریبی دوست حسین لوائی اور نجی بینک کے نائب صدر طلحہ رضا کو 11جولائی تک جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کیا گیا ہے۔



متعللقہ خبریں