بھارتی آرمی چیف کشمیرکی حقیقت تسلیم کرنےپربھارتی سیاستدانوں اورفوج کا ہدف، بھارت بھر میں شدید رد عمل

بھارتی آرمی چیف جنرل راوت کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں اس سلسلے کو روکنے کے لئے کچھ کرنا ضروری ہے،دراندازی پر قابو پاسکتے ہیں لیکن کشمیری نوجوانوں پر نہیں

بھارتی آرمی چیف کشمیرکی حقیقت تسلیم کرنےپربھارتی سیاستدانوں اورفوج کا ہدف، بھارت بھر میں شدید رد عمل

بھارتی آرمی چیف نے مقبوضہ کشمیر میں شکست تسلیم  کرتے ہوئےکہا ہے کہ  ہم جتنا    کشمیر کی آزادی کی تحریک کو دباتے جاتے ہیں  یہ تحریک اتنا ہی زور پکڑتی جاتی ہے،  ہم جتنے لوگ مارتے ہیں ان سے زیادہ تحریک میں شامل ہو جاتے ہیں۔

بھارتی آرمی چیف جنرل راوت کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں اس سلسلے کو روکنے کے لئے کچھ کرنا ضروری ہے،دراندازی پر قابو پاسکتے ہیں لیکن کشمیری نوجوانوں پر نہیں۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات بہت ضروری ہیں،کوشش کر کے دیکھا جائے، مقبوضہ کشمیر میں امن کو ایک موقع ملنا چاہیے۔

انڈین آرمی چیف  کے اس بیان پر بھارت بھر میں  کھلبلی پیدا ہوگئی ہے ، سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ فوج کے اندر سے  بحی ان کے خلاف  آواز بلند ہونا شروع ہوگئی ہے۔

عالمی مبصرین بھارتی آرمی چیف کی رائے میں تبدیلی کو بڑی اہمیت دے رہے ہیں۔ ان کے خیال میں بھارتی آرمی چیف کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب شمالی کوریا اور جنوبی کوریا  نے اپنے مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ جنرل راوت نے اپریل میں کہا تھا کہ نوجوان بندوق سے نہیں جیت سکتے لیکن اب بھارتی آرمی چیف کشمیر کی حقیقت  کو تسلیم کرتے ہوئے  دکھائی دیتے ہیں۔ کشمیریوں کو طاقت کے بل بوتے پر شکست سے دوچار نہیں کرسکتے ، مسئلے کے حل کے لیے کشمیریوں کےدل جیتنے ہوں گے ،وادی کے موجودہ حالات بھارت کے لیے انتہائی تشویشناک صورت اختیار کرگئے ہیں۔



متعللقہ خبریں