نوازشریف نےنکالنے کےحقائق پرسےپردہ ہٹادیا،سابق جرنیلوں کےپاوں تلےسےزمین سرک گئی،آئندہ مداخلت ناممکن

نواز شریف نے کہا کہ ایک خفیہ ادارےکےسربراہ کاپیغام پہنچایاگیاکہ مستعفی ہوجاؤیاطویل رخصت پر چلے جاو، مجھے اس کادکھ ہوا کہ ماتحت ادارے کا ملازم مجھ تک یہ پیغام پہنچارہاہے

نوازشریف نےنکالنے کےحقائق پرسےپردہ ہٹادیا،سابق جرنیلوں کےپاوں تلےسےزمین سرک گئی،آئندہ مداخلت ناممکن

احتساب عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ ’ مجھے نکالے جانے کی سب سے بڑی وجہ پرویز مشرف کیخلاف غداری کیس ہے،مشرف غداری کیس قائم کرتے ہی مشکلات اور دباو بڑھادیا گیا، مجھے دھمکی نما مشورہ دیا گیا کہ بھاری پتھر اٹھانے کا ارادہ ترک  کردو ، مجھےبذریعہ زرداری پیغام دیاکہ مشرف کےدوسرےمارشل لاءکوپارلیمانی توثیق دی جائے،میں نے انکار کردیا۔

انہوں نے کہا کہ ایک خفیہ ادارےکےسربراہ کاپیغام پہنچایاگیاکہ مستعفی ہوجاؤیاطویل رخصت پرچلےجاؤ،مجھے اس کادکھ ہوا کہ ماتحت ادارے کا ملازم مجھ تک یہ پیغام پہنچارہاہے، نااہلی اورپارٹی صدارت سے ہٹانےکے اسباب ومحرکات کوقوم بھی اچھی طرح جانتی ہے،مشرف کےخلاف مقدمہ شروع ہوتےہی اندازہ ہوگیا کہ آمر کو کٹہرے میں لانا کتنا مشکل ہوتاہے ۔

سابق وزیراعظم نے احتساب عدالت میں اپنے بیان میں کہا 12 اکتوبر کو مشرف نامی جرنیل نے اقتدار پر قبضہ کیا، سب نے آگے بڑھ کر مشرف کا استقبال کیا، 8 سال بعد دوبارہ آئین توڑا اور ایمرجنسی کے نام پر مارشل لا لگایا، اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو نظر بند کیا جس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی، ن لیگ نے واضح موقف اپنایا، 2013 میں یہ عوام کے سامنے رکھا، آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت مشرف کیخلاف غداری کا مقدمہ دائر کیا۔

انہوں نے کہا کہ   سارے ہتھیار اہل سیاست کے لیے بنے ہیں ،جب بات فوجی آمروں کے خلاف آئے تو فولاد موم بن جاتی ہے۔

نواز شریف نے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا مجھے دفاع میں کوئی گواہ پیش کرنے کی ضرورت نہیں، عدالت میں نیب اپنا مقدمہ ثابت کرنے میں ناکام رہا،  فوجی آمروں  نے پاکستان کے وجود پر گہرے زخم لگائے۔

سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ مجھے کبھی آئینی مدت پوری کرنے نہیں دی گئی، مجھے جلاوطن کردیا گیا، میری جائیدادیں ضبط کرلی گئیں، واپس آیا تو ہوائی اڈے سے روانہ کردیا گیا، میں اس وقت بھی حقیقی جمہوریت کی بات کررہاتھا، فیصلے وہی کریں جنہیں عوام نے اختیار دیاہے، داخلی اور خارجی پالیسیوں کی باگ دوڑ منتخب نمائندوں کے پاس ہی ہو۔

 



متعللقہ خبریں