عدلیہ مخالف تقاریر کرنے کے الزام میں وزیر اعظم عباسی پر مقدمہ چلایا جائے، وکیل

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی اپنا عہدہ سنبھالنے سے قبل اٹھائے گئے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ کے خلاف محاذ آرائی شروع کر رکھی ہے، وکیل کا دعوی

عدلیہ مخالف تقاریر کرنے کے الزام میں وزیر اعظم عباسی پر مقدمہ چلایا جائے، وکیل

لاہور ہائی کورٹ نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف سیالکوٹ میں عدلیہ مخالف تقریر کرنے پر وزیر اعظم، وفاقی حکومت اور پاکستان پیمرا کو نوٹس جاری کردیے ہیں ۔

واضح رہے کہ  دائر کردہ   عرضی میں کہا گیا تھا کہ وزیر اعظم نے پاناما پیپر کیس کے فیصلے کو ردی کی  ٹوکری  قرار دیا۔وکیل نے  عدالتی سماعت کے دوران  بتایا کہ وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں توہین عدالت کا ارتکاب کیا اور ان کے اس بیان سے عدالت کو متنازع بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

وکیل کے مطابق  وزیر اعظم نواز شریف ان کی بیٹی مریم نواز نے اپنی تقاریر میں عدالت عظمیٰ اور اس کے ججز کے خلاف کھلے عام تنقید کا بازار گرم کر رکھا ہے اور وہ عوام میں عدالت کے حوالے سے جذبات کو بھی ٹھیس پہنچا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی اپنا عہدہ سنبھالنے سے قبل اٹھائے گئے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ کے خلاف محاذ آرائی شروع کردی۔

عدالت سے درخواست کی گئی ہے  کہ وزیر اعظم کے خلاف توہین عدالت کا  مقدمہ دائر کیا جائےاور پیمرا کو وزیر اعظم کی جانب سے عدلیہ کو نشانہ بنانے والی تقاریر کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنے کا حکم دیا جائے۔

عدالت نے وکیل کے الزامات کی سماعت کے بعد  وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، وفاقی حکومت اور پیمرا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت کو 15 جنوری تک کے لیے ملتوی کردیا۔

 



متعللقہ خبریں