خاشقجی واقع سے شہزادہ محمد بن سلمان لا علم تھے، سعودی وزیر خارجہ

قاتل سلامتی  امور کے ذمہ دار  اور نارمل  سیکورٹی  اہلکار تھے، جنہوں نے اپنے اختیارات اور ذمہ داریوں سے بڑھ کر یہ آپریشن کیا

خاشقجی واقع سے شہزادہ محمد بن سلمان لا علم تھے، سعودی وزیر خارجہ

سعودی عرب  کے وزیر ِ خارجہ عادل الجبیر  نے اس بات کا دعوی کیا ہے کہ صحافی جمال خاشقجی  کے استنبول کے قونصل خانے میں  قتل سے علی عہد محمد بن سلمان  کو آگاہی نہیں تھی۔

عادل الجبیر  نے امریکی ٹیلی ویژن فوکس نیوز  کو  انٹرویو میں بتایا ہے کہ میں نہیں سمجھتا کہ پرنس محمد بن  سلمان کو  مذکورہ صحافی کے انجام کا علم تھا اور نہ ہی یہ اس واردات کے ذمہ دار ہیں۔

قاشقجی کے قتل میں ملوث افراد کے محمد بن سلمان  کے قریبی حلقوں سے تعلق ہونے کے باوجود  ولی عہد کے بھلا  اس سے کیسے لا علم ہونے  کے حوالے سے ایک سوال کے جواب  میں جبیر نے دعوی کیا ہے کہ مذکورہ افراد محمد بن سلمان سے قریبی تعلق  نہیں رکھتے۔

انہوں  نے واضح کیا کہ "محمد بن سلمان ان  دعووں کی تردید کرچکے ہیں اور نہ ہی خفیہ سروس کے اعلی حکام   اس واقع سے آگاہ تھے۔یہ لوگ  سلامتی  امور کے ذمہ دار  اور نارمل  سیکورٹی  اہلکار تھے، جنہوں نے اپنے اختیارات اور ذمہ داریوں سے بڑھ کر یہ آپریشن کیا۔ قاشقجی کو قونصلیٹ جنرل میں  قتل کرتے ہوئے انہوں نے غلطی کی اور پھر اس پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی۔"

وزیر جبیر نے ایک 60 سالہ کالم نگار کے 15 سیکورٹی اہلکاروں کے خلاف کس طرح مزاحمت کرسکنے  پر مبنی ایک دوسرے سوال کے جواب میں کہا کہ "میرا نہیں خیال کہ جب یہ واقع پیش آیا تو 15 کے 15 اہلکار قونصل خانے کی عمارت میں موجود تھے۔  ہم اس گروپ   کے بارے میں تحقیقات کرتے ہوئے ان کے کس طریقے سے یکجا ہونے کی چھان بین کر رہے ہیں۔"

سعودی وزیر نے مزید بتایا کہ "یہ ایک انتہائی فاش غلطی تھی ، میں مقتول کے لواحقین سے تعزیت کرتا ہوں۔  کاش اس چیز کا سدِ باب کیا جا سکتا۔  تاہم، ایک سنگین  غلطی سرزد کی گئی ہے،  جس کے ذمہ داروں کو  ان کے  کیفرِ کردار تک  ضرور پہنچایا جائیگا۔ "

جبیر  کا کہنا تھا کہ ہم نے تحقیقات کے نتیجے کے ذریعے قاشقجی کے قونصل خانے میں قتل کا پتہ چلایا  ہے ، تا ہم  واردات کے طریقہ کار اور جست کے کہاں پر ہونے کا فی الحال ہمیں علم نہیں۔

 


 



متعللقہ خبریں