خاشقجی سے متعلق عدالتی کاروائی کی تکمیل سے متعلق کوئی حتمی تاریخ نہیں ہے: السامانی

اس بارے میں کوئی حتمی تاریخ نہیں دی جا سکتی کہ جمال خاشقجی سے متعلق تفتیش اور عدالتی کاروائی کب ختم ہو گی: وزیر انصاف ولید السامانی

خاشقجی سے متعلق عدالتی کاروائی کی تکمیل سے متعلق کوئی حتمی تاریخ نہیں ہے: السامانی

سعودی عرب کے وزیر انصاف ولید السامانی نے کہا ہے کہ اس بارے میں کوئی حتمی تاریخ نہیں دی جا سکتی کہ جمال خاشقجی سے متعلق تفتیش اور عدالتی کاروائی کب ختم ہو گی۔

سعودی عرب کے مالی تعاون کے حامل دوبئی کے  العارابیہ ٹیلی ویژن چینل پر بات کرتے ہوئے سامانی نے کہا ہے کہ شاہی قانون و انصاف کا عمل کھلا ہے اور اس دعوے سے متعلق کوئی بھی طلب اس سے مشابہہ دعووں کے اصول و ضوابط  کے ساتھ متوازی ہو گی۔

اس سوال کے جواب میں کہ خاشقجی دعوے کی تفتیش و عدالتی کاروائی کب مکمل ہو گی سامانی نے کہا کہ خواہ تفتیش ہو خواہ عدالتی  کاروائی کے مراحل مقدمے سے متعلق پروسیجر کا تعین تعزیراتی عدالت کے  قوانین  کے تحت ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ تفتیش  میں وقت لگے گا اور اس بارے میں بھی کوئی واضح تاریخ موجود نہیں ہے کہ تفتیش کب مکمل ہو گی۔ فی الحال ہم اٹارنی دفتر کی تفتیش مکمل ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ سامانی نے اس سے قبل سعودی  خبر رساں ایجنسی SPA کے لئے جاری کردہ بیان میں کہا تھا کہ " خاشقجی کا واقعہ سعودی شاہی کے زیر حاکمیت زمین کے ٹکڑے پر پیش آیا ہے"۔

سعودی انتظامیہ کی طرف سے ، 2 اکتوبر کو استنبول میں سعودی قونصل خانے میں داخل ہونے کے بعد لاپتہ ہونے والے صحافی جمال خاشقجی کے بارے میں جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ "خاشقجی قونصل خانے میں ہونے والی ہاتھا پائی کے دوران ہلاک ہو گیا ہے"۔

سعودی خبر رساں ایجنسی SPA میں شائع ہونے والی خبر میں دعوی کیا گیا تھا کہ سعودی اٹارنی دفتر کی تفتیش کے مطابق جمال خاشقجی نے سعودی قونصل خانے میں داخل ہونے کے بعد یہاں موجود دیگر سعودی شہریوں کے ساتھ بحث کرنا شروع کر دیا جس کے نتیجے میں نوبت ہاتھا پائی تک آ گئی اور یہ ہاتھا پائی خاشقجی کی موت پر ختم ہوئی۔



متعللقہ خبریں