ہم جانتے ہیں کہ حملے کی ذمہ دار تنظیم کونسی  ہے اور اس کے کن سے رابطے ہیں: صدر روحانی

ہم بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ حملہ کس تنظیم کی طرف سے کیا گیا ہے اور اس تنظیم کے کس کے ساتھ روابط ہیں۔ ایران اس حملے کی طرف سے ہرگز لاپرواہی نہیں برتے گا: صدر حسن روحانی

ہم جانتے ہیں کہ حملے کی ذمہ دار تنظیم کونسی  ہے اور اس کے کن سے رابطے ہیں: صدر روحانی

ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ اہواز میں حملے کی ذمہ دار تنظیم کونسی  ہے اور اس کے کن سے رابطے ہیں۔

صدر روحانی نے اقوام متحدہ کے 73 ویں جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لئے  نیویارک  روانگی سے قبل تہران مہر آباد ائیر پورٹ پر پریس کانفرنس کا انعقاد کیا۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کا اجلاس ہر ملک کے اپنی رائے کا اظہار کرنے کے لئے ایک موقع ہے لہٰذا ایران کو بھی علاقائی و بین الاقوامی موضوعات پر اپنی آراء کے اظہار کا موقع ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ دورے کے دوران وہ یورپ اور ایشیاء  کے سربراہان مملکت  کے ساتھ مذاکرات کریں گے اور شام، عراق اور یمن جیسے موضوعات پر دوست ممالک کے ساتھ تبادلہ خیالات کریں گے۔علاوہ ازیں امریکہ کی ایران پر عائد کردہ پابندیوں سے کم سے کم قیمت میں چھوٹنے کے لئے کوششیں کریں گے۔

صدر روحانی نے کہا کہ اس دائرہ کار میں وزیر خارجہ محمد جواد ظریف بھی 4+1 ممالک یعنی روس، چین، فرانس ، برطانیہ اور جرمنی کے وزرائے خارجہ کے ساتھ جوہری سمجھوتے کے بارے میں مذاکرات کریں گے۔

صوبہ ہوزستان  سے منسلک شہر اہواز  میں مسلح حملے کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ حملہ کس تنظیم کی طرف سے کیا گیا ہے اور اس تنظیم کے کس کے ساتھ روابط ہیں۔ ایران اس حملے کی طرف سے ہرگز لاپرواہی نہیں برتے گا۔

صدر روحانی نے کہا کہ ایران۔عراق جنگ میں ان تنظیموں کو عراق کے معزول لیڈر صدام حسین  کی حمایت کی حاصل تھی ۔ مذکورہ حملہ  ایران پر گیا ہے  اور یہ قتل عام کرنے والے بغاوت کے راستے پر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مذکورہ تنظیمیں ایران ۔ عراق جنگ  میں عراق کی طرف رہ گئیں۔ جب تک صدام حسین زندہ تھے یہ تنظیمیں ان کے لئے کام کر رہی تھیں لیکن ان کی وفات کے بعد انہوں نے ایک اور ملک کے لئے کام کرنا شروع کر دیا ہے۔

روحانی نے کہا کہ خلیجی ممالک میں سے ایک انہیں مادی، فوجی اور سیاسی مدد فراہم کر رہا ہے اور انہیں تحفظ دے رہا ہے۔

واضح رہے کہ ایران کے صوبہ ہوزستان سے منسلک اور عرب اکثریتی آبادی والے  شہرت اہواز میں کل ایران ۔ عراق جنگ کی 38 ویں سالانہ یاد کے موقع پر منعقدہ فوجی مارچ پاسٹ تقریب پر مسلح حملے میں 17 فوجیوں سمیت کُل 25 افراد ہلاک اور 60 زخمی ہو گئے تھے۔



متعللقہ خبریں