اخوان المسلین کے 75 کارکنان کو سزائے موت کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، اقوام متحدہ

اخوان المسلمین  کے 75 اعلی حکام کو  پھانسی دینے کا  فیصلہ گہرے خدشات کا موجب بنا ہے

اخوان المسلین کے 75 کارکنان کو سزائے موت کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کی حقوق انسانی کی کمشنرِ اعلی مشل باحلیٹ نے  اپیل کی ہے کہ مصر میں اخوان المسلمون  کے  75 ارکان  کو سزائے موت  کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔

چلی کی سابق صدر باہلیٹ جو کہ اب  اقوام متحدہ میں  فرائض ادا کر رہی ہیں  نے ایک تحریری اعلان جاری کرتے ہوئے  کہا ہے کہ شہید اسماء کے والد کے بھی شامل ہونے والے اخوان المسلمین  کے 75 اعلی حکام کو  پھانسی دینے کا  فیصلہ گہرے خدشات کا موجب بنا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا ہے کہ  اس فیصلے پر  عمل درآمد  ایک  نا قابلِ واپسی  عدالتی غلطی ہو گی، لہذا اس پر نظر ثانی  لازمی ہے۔

باہلیٹ نے مصر ی عدالتوں  کو بین الاقوامی انصاف کے تقاضوں کا احترام کرنے  کی درخواست   کی اور 14 اگست سن 2013 کو رابعہ اور نادہا چوکوں میں  اخوان المسلمین کے کارکنان کے احتجاجی مظاہروں  میں تقریباً 900 نہتے   مظاہرین   کو  مصری سیکورٹی قوتوں کی جانب  سے قتل کیے جانے   یاد دہانی کراتے ہوئے  فوجی بغاوت کے اس قتل عام کے ذمہ دار ہونے پر مبنی نکتہ چینیوں پر توجہ  مبذول کرائی۔

واضح رہے کہ یہ بھی اعلان کیا گیا تھا کہ  مصر میں  75 افراد  پھانسی کی سزا کے خلاف اپیل کورٹ   سے رجوع کرسکتے ہیں۔



متعللقہ خبریں