پاکستان ڈائری - 37

پاکستان ڈائری میں اس بار ہم آپ کی ملاقات کروائیں گے معروف کرکٹر سید عماد وسیم  سے

پاکستان ڈائری - 37

پاکستان ڈائری - 37

پاکستان ڈائری میں اس بار ہم آپ کی ملاقات کروائیں گے معروف کرکٹر سید عماد وسیم  سے وہ Swansea ویلز میں 18 دسمبر 1988 میں پیدا ہوئے۔وہ پہلے welsh-born کرکٹر ہیں جو پاکستان کی طرف سے نمائندگی کرتے ہیں ۔عماد وسیم پہلے پاکستانی اسپنر ہیں جنہوں نے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ 2016 میں صرف 14 رنز دے کر ویسٹ انڈیز کے خلاف 5 وکٹیں حاصل کیں اور مین آف دی سیریز قرار پائے ۔وسیم محنتی اور باصلاحیت کھلاڑی ہیں انکی پرفارمنس نے ٹیم کو جیتنے میں مدد دی۔انکے بارے میں کہا جاتا کہ وہ بیٹس مین پر حاوی ہوجاتے ہیں اور کوئی کھلاڑی بھی انکی باولنگ کے آگے زیادہ دیر ٹک نہیں پاتا۔آئی سی سی کی جون 2017 میں جاری کردہ نئی ٹی ٹوئنٹی  رینکنگ میں عماد وسیم نمبر ون باولر قرار پائے۔

عماد وسیم نے کرکٹ کے ایک روزہ بین الاقوامی میچ کا آغاز 19 جولائی 2015 بمقابلہ سری لنکا سے کیا اور ٹی 20 آغاز 24 مئی 2015 بمقابلہ زمبابوے سے کیا ۔وہ لیفٹ آرم باولر اور لیفٹ آرم بیٹس مین ہیں ۔اس وقت وہ پاکستان سپر لیگ میں کراچی کنگز کا حصہ ہیں۔

 ٹی آر ٹی سے بات کرتے ہوئے عماد وسیم نے بتایا کہ وہ ویلز میں پیدا ہوئے اور انکا بچپن اسلام آباد میں گزرا ۔تعلیم بھی  اسلام آباد میں حاصل کی وہ آئی ایم سی بی ایف سیون تھری میں زیر تعلیم رہے ۔لائق اسٹوڈنٹ تھے اور ساتھ کھیلوں کے بھی شوقین ۔ٹی آر ٹی کے پڑھنے والوں اور سامعین کے لئے یہاں دلچسپ بات بتاتے چلیں کہ عماد وسیم کو پری میڈیکل کے بعد راولپنڈی میڈیکل کالج میں داخلہ مل گیا تھا لیکن وہ اسے خیر باد کہہ کر کرکٹ میں آگئے۔عماد وسیم کہتے ہیں سیکنڈ ائیر میں انڈر نائیٹن کھیل رہا تھا اسکے ساتھ امتحانات بھی دئے اور پاس ہوگیا ۔بعد میں  ڈاکٹر بننے کا ارادہ موخر کیا اور کرکٹ کو فوکس کیا۔وہ کہتے ہیں والدین نے مجھے میرے فیصلے میں سپورٹ کیا ۔اپنے گھر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عماد وسیم نے بتایا کہ ان کے گھر میں والد والدہ ایک چھوٹی بہن اور بڑا بھائی ہیں ۔ڈیڈ جاپانی کمپنی کے ساتھ وابستہ ہیں اور انجینئر ہیں والدہ گھر سنبھالتی ہیں ۔بڑے بھائی ملٹی ٹیک کمپنی کے ساتھ وابستہ ہیں اور چھوٹی بہن نے حال ہی میں تعلیم مکمل کی ہے۔

اسلام آباد شہر کے بارے میں بات کرتے ہوئے عماد وسیم نے کہا کہ میں اس شہر میں بڑا ہوا ہوں یہ بہت خوبصورت شہر ہے۔پہلے بہت گھوما کرتا تھا خاص طور پر سنوکر کھیلنے باقاعدگی سے جاتا تھا۔ کبھی کبھی ہالی وڈ کی موویز بھی دیکھنے جاتا تھا جو اب نہیں ہوپاتا ۔مونال اور ننڈوز کا کھانا اچھا ہے اکثر وہاں جانا ہوتا ہے۔

کرکٹ سے فراغت ہو تو وہ کہتے ہیں پھر سارا وقت گھر پر گزرتا ہوں کیونکہ کرکٹ کی مصروفیات سے گھر جانے کا ٹائم کم ملتا ہے۔گھر پر ہوں تو پھر خوب آرام کرتا ہوں فیملی اور دوستوں کو ٹائم دیتا ہوں ۔

کرئیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں میں انڈر نائنٹین کے لئے سیلیکٹ ہوا اور اسکے بعد سے کرکٹ کرئیر کا آغاز ہوا۔ہم نے 2006 انڈر نائنٹین ورلڈ کپ جیتا۔اسکے مجھے کپتان بنا دیا گیا اور میں دو سال کپتان رہا۔وہ کہتے ہیں اسکے بعد سے میری زندگی کا ویسا ہی آغاز ہوا جیسا میں چاہتا تھا 

"its like a dream comes true"

وہ کہتے ہیں اب تو فینز ملتے ہیں تو بات صرف آٹوگراف پر ختم نہیں ہوتی بلکے سیلفی کی فرمائش بھی ساتھ آتی ہے۔وہ کہتے ہیں میں کبھی بھی فینز کو سیلفیز سے منع نہیں کرتا۔جتنا فینز ہمیں پیار محبت اور دعائیں دیتے ہیں وہ میرے لئے قیمتی اثاثہ ہیں ۔عزت ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے ہمیں کوشش کرنی چاہیے ہم سب سے اخلاق سے ملیں ۔

عماد وسیم کہتے ہیں پاکستان سپر لیگ نے ملک میں کرکٹ کے حالات کو یکسر تبدیل کردیا ہے۔پی ایس ایل کی وجہ سے کرکٹ پاکستان میں واپس آیا ہے۔اسکی وجہ سے ینگ ٹیلنٹ سامنے آرہا ہے اور فائنل پاکستان میں ہونے کی وجہ سے غیر ملکی کھلاڑی بھی پاکستان آرہے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ کھلاڑیوں کو معاوضہ بھی اچھا مل رہا ہے اور پذیرائی بھی بہت ہے۔پاکستان میں کرکٹ کی بحالی کا سہرا پی سی بی کو جاتا ہے ۔وہ کہتے ہیں پی ایس ایل ینگسٹرز کو پروموٹ کررہی ہے یہاں سے ہی کھلاڑی آگے چل کر ملک کا نام مزید روشن کریں گے

اول گراونڈ میں چیمپئنز ٹرافی کے یادگار لمحات کو دہراتے ہوئے عماد وسیم نے بتایا کہ  بہت محنت کے بعد ہم نے یہ میچ جیتا۔ 

وہ کہتے ہیں اپنی تمام فتوحات میں وہ چیمپئنز ٹرافی کو اولین سجمھتے ہیں ۔

خاص طور پر انڈیا کو ہرانا بہت یادگار ہے۔

ورلڈ الیون کی پاکستان آمد پر انہوں نے کہا کہ وہ آئی سی سی اور پی سی بی کا شکریہ ادا کرتے ہیں پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ بحال ہورہی ہے ۔وہ کہتے ہیں ہم پرجوش ہیں کہ اپنے کرواڈ کے سامنے کھیلیں گے۔ہماری پوری کوشش ہوگی کہ ورلڈ الیون کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کریں ۔

انہوں نے کہا کھیلتے وقت صرف اس بات کو فوکس کریں کہ آپ پاکستان کے لئے کھیل رہے ہیں اور اپنا سو فیصد دینے کی کوشش کریں ۔

عماد وسیم صرف کرکٹ ہی نہیں اپنے سٹائل کی وجہ سے بھی خبروں کا حصہ بنتے ہیں ۔اکثر نیوزویب سائٹس انکی شادی اور نجی زندگی کے حوالے سے غلط خبریں چھاپ دیتی ہیں ۔اس پر بات کرتے ہوئے عماد وسیم نے کہا کہ وہ سنگل ہیں اور شادی کا ابھی کوئی ارادہ نہیں نا ہی انکی کوئی گرل فرینڈ ہے ۔ان کے حوالے سے بے بنیاد خبریں گردش کررہی ہیں کہ وہ عنقریب شادی کرنے والے ہیں ایسا کچھ نہیں ابھی فوکس صرف کرکٹ ہے۔شادی ضرور کریں گے لیکن ابھی نہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ انکا ہیئر اسٹائل بھی خبروں کی زینت بن گیا جبکہ بینڈ انہوں نے اس لئے لگایا تھا کہ بال ان کی آنکھوں پر نا آئیں ۔وہ کہتے ہیں کرکٹ کے میدان میں وہ کسی فیشن کے قائل نہیں وہ میدان میں  صرف کھیلنے کے لئے اترتے ہیں ۔فیشن صرف میں گراونڈ کے باہر کرتا ہوں مجھے اچھے کپڑے پہنے کا شوق ہے۔جب اللہ نے آپ کو نوازا ہے تو اچھے طریقے سے خرچ کریں ۔

میرے سوال پوچھنے پر کہ کیا فلمز،اینکرنگ اور ماڈلنگ کی طرف بھی آئیں گے تو عماد وسیم نے مسکراتے ہوئے کہا کہ نہیں صرف کرکٹ فوکس ہے ابھی ایسا کوئی ارادہ نہیں ۔پاکستان کی طرف سے کھیلنا ہے اور بس کچھ نہیں ۔وہ کہتے ہیں سوشل میڈیا پر ٹرولز کو مکمل اگنور کرتے ہیں ۔ لیکن ان کا ایک ہی رول ہے نا وہ کسی کو بلاک کرتے ہیں نا ہی کسی کو میوٹ۔وہ کہتے ہیں میرا سوشل میڈیا کا استعمال بھی کم ہے اور اگر استعمال کرنا بھی ہو تو ٹویٹر استعمال کرتا ہوں۔ان تمام لوگوں کو اگنور کیا جائے جو بدتمیزی کرتے ہیں ۔

عماد کو سیاست سے دلچسپی نہیں لیکن وہ ہر الیکشن میں ووٹ ضرور دیتے ہیں ۔ٹی وی دیکھنے کا ٹائم نہیں ہوتا لیکن کبھی انہیں وقت ملے تو سینما میں ہالی وڈ کی موویز دیکھتے ہیں ۔جبکے بالی وڈ اور لالی وڈ کی موویز وہ نہیں دیکھتے ۔میوزک سنتے ہیں ۔سیاحت کا بھی بہت شوق ہے۔

وہ کہتے ہیں کرکٹ کی وجہ سے بہت سے سے ممالک اور کلچر دیکھ لیتے ہیں ۔یہ اچھا ہے اقوام ایک دوسرے کو جانیں ۔

وہ کہتے اللہ تعالی نے بہت عزت دی ہے اسکا بہت شکر ہے۔وہ کہتے ہیں مستقبل بھی کرکٹ ہے زندگی بس کرکٹ کے گرد گھومتی ہے۔انشاءاللہ قوم کو آزادی کپ بھی جیت کر دکھائیں گے 



متعللقہ خبریں