ترکی کے اخبارات سے جھلکیاں

31.08.18

ترکی کے اخبارات سے جھلکیاں

روزنامہ حریت "تیس اگست یوم ظفر کی 96 ویں سالگرہ   کو اندرون ملک اور بیرون ملک ترک نمائندہ دفاتر  میں مختلف تقریبات  کے ساتھ منایا گیا۔ ترکی بھر میں عوام نے اہم چوراہوں میں یکجا ہوتے ہوئے  اپنے  جوش و جذبات کا مظاہرہ کیا۔ بچوں نے ہاتھ میں  ترک پرچم اٹھاتے ہوئے  فوجیوں کے مارچ پاسٹ کو بڑے ہیجان سے دیکھا۔

روزنامہ ینی شفق " یہ لوگ ترکی کے سامنے  رکاوٹیں  کھڑی  نہیں کر سکتے "  کے عنوان کے تحت لکھتا ہے کہ صدر ایردوان نے 30 اگست یوم ِ ظفر کی 96 ویں   سالگرہ کے حوالے سے اہم پیغامات دیے۔ انہوں نے کہا کہ"اپنے  راستے کا بذات ِ خود تعین  کرنے والے  ترکی  سے یہ لوگ نا  خوش  ہیں، یہ چاہے کچھ بھی کیوں  نہ کریں،  عظیم اور طاقتور ترکی کے سامنے ان کی ایک نہیں چلے گی۔ یہ چاہے   ہمیں ہزار بار   گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کی سوچ   کیوں نہ رکھیں ہم ہزار بار ہی  دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑے  ہوتے رہیں گے۔"

روزنامہ صباح "ٹرمپ کو خفا کرنے والی خبر"  جلی سرخی  کے ساتھ  اپنی خبر میں لکھتا ہے کہ امریکی عظیم فرم لنکڈ ان  نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سنجیدہ لیے بغیر  ترکی میں سرمایہ کاری  کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ 500 ملین فعال صارفین ہونے والی فرم نے استنبول  میں دفتر کھولنے اور سرمایہ کاری کے زیر ِ مقصد مذاکرات شروع کر دیے ہیں۔

روزنامہ وطن "نہ عرب  نہ ہی روسی! اب کی بار وہ لوگ ترکی میں"  کے زیرِ عنوان  لکھتا ہے کہ  ترکی  میں لاطینی   امریکی ممالک سے  آنے والے سیاحوں کی تعداد میں خاصکر حالیہ برسوں میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ جنوبی امریکہ سے امسال  پہلے سات ماہ  میں 1 لاکھ 39 ہزار  سیاح آئے  ہیں جو کہ گزشتہ برس کے  مقابلے میں 74٫23 فیصد  زیادہ ہے۔ لاطینی ممالک  کے سیاحوں میں ارجنٹائن اور برازیل  سر فہرست ہیں۔

روزنامہ سٹار  نے "ترک شعبہ ٹورزم  میں گہما گہی نے اسپین کو متاثر کیا ہے"  کے زیر عنوان لکھا ہے کہ اسپین  کی سیر کو  جانے والے سیاحوں  کی تعداد توقعات  سے کم رہی ہے، جس کی وجہ   ترکی میں شعبہ سیاحت   کی بحالی  ہے۔ ٹورزم فرم  ایکسل ٹور کے نائب صدر ہوز  لوئس زوریدا  کا کہنا ہے کہ خاصکر برطانوی اور  جرمن سیاحوں کی تعداد میں گراوٹ   کی وجہ   ترک شعبہ سیاحت  "سر گھما دینے والی" پیش رفت ہے۔ زوریدا نے ہسپانوی  شعبہ سیاحت کے نمائندگان کو  اپنی خدمات  اورسروسز میں بہتری لانے کا مشورہ دیا ہے۔

 



متعللقہ خبریں