امریکی وزیرِ دفاع کا افغانستان کا اچانک دورہ

سربراہان  کی ملاقات میں "سلسلہ امن ، افغان سیکورٹی قوتوں  کے اندر اصلاحات، قریب آنے والے انتخابات، انسداد ِ دہشت گردی اور پاکستان کے ساتھ ڈائیلاگ " کی طرح کے  عنوانات پر غور

امریکی وزیرِ دفاع کا افغانستان کا اچانک دورہ

امریکی وزیر دفاع جیمز ماتھیس  نے افغانستان کا  غیر متوقع طور پر دورہ کیا ہے۔

اعلان کردہ پروگرام میں شامل نہ ہونے کے باوجود افغانستان  جانے والےماتھیس نے دارالحکومت کابل میں صدر اشرف غنی سے ملاقات کی۔

امریکی میڈیا میں اس حوالے سے شائع خبروں میں  بتایا گیا ہے کہ ماتھیس ۔ غنی ملاقات میں طالبان کے ساتھ جاری  سلسلے پر وسیع پیمانے پر غور کیا گیا ہے اور دونوں ملکوں کے مابین سیکورٹی باہمی تعاون کے معاملے پر بات چیت ہوئی ہے۔

دوسری جانب افغان صدر اشرف غنی کے ترجمان نے ٹویٹر پر اعلان کیا ہے کہ دونوں سربراہان  کی ملاقات میں "سلسلہ امن ، افغان سیکورٹی قوتوں  کے اندر اصلاحات، قریب آنے والے انتخابات، انسداد ِ دہشت گردی اور پاکستان کے ساتھ ڈائیلاگ " کی طرح کے  عنوانات پر جامع طور پر غور کیا گیا ہے۔

اس دورے میں امریکی چیف آف جنرل سٹاف جوزف ڈنفورڈ  بھی  ماتھیس کے ہمراہ تھے۔

خیال  رہے کہ افغانستان میں تقریباً 14 ہزار امریکی فوجی متعین ہیں۔

گزشتہ برس "افغانستان کے لیے نئی حکمتِ عملی" کا عندیہ دینے والی ٹرمپ انتظامیہ نے اس اعلان کے بعد افغانستان کو مزید  تین ہزار  فوجی روانہ کیے تھے۔

 

 



متعللقہ خبریں