چین بھی میدان میں آ گیا: ہم شامی بحران کے حل میں زیادہ اہم کردار ادا کریں گے

میرے خیال میں وقت آ گیا ہے کہ شام اپنی ترقی اور تعمیر نو کے ساتھ دلچسپی لے اور چین اس عمل میں شامی عوام اور حکومت  کی زیادہ مدد کرنے کے لئے زیادہ اہم کردار ادا کرے گا: کی کیانجن

چین بھی میدان میں آ گیا: ہم  شامی بحران کے حل میں زیادہ اہم کردار ادا کریں گے

امریکہ اور روس کے بعد چین نے بھی شام میں زیادہ کردار ادا کرنے کے ارادے کا اعلان کیا ہے۔

شام میں چین کے سفیر' کی کیانجن' نے کہا ہے کہ چین شام کے بحران کے حل کے لئے زیادہ اہم کردار ادا کرے گا۔

چین کی شین خوا خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کیانجن نے کہا کہ "میرے خیال میں وقت آ گیا ہے کہ شام اپنی ترقی اور تعمیر نو کے ساتھ دلچسپی لے۔ میرے خیال میں چین اس عمل میں شامی عوام اور حکومت  کی زیادہ مدد کرنے کے لئے زیادہ اہم کردار ادا کرے گا"۔

انہوں نے دمشق کے المواساۃ یونیورسٹی  ہسپتال  کا دورہ کیا جہاں ہسپتال کی مدد کرنے پر ہسپتال کے ڈائریکٹر نے ان کا شکریہ ادا کیا۔

اس سے قبل  بھی شام کے وزیر رسل و رسائل  نے جاری کردہ بیان میں کہا تھا کہ ملک میں رسل و رسائل کے نیٹ ورک کی تعمیر کے بعد ہم ریلوے لائن کے ذریعے چین تک رسائی کو یقینی بنائیں گے۔

چین کے روزنامہ گلوبل ٹائمز  کے مطابق ماہِ اپریل سے لے کر اب تک کم از کم 30 چینی کاروباری حضرات نے شام کا دورہ کیا اور وہاں سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لیا۔

واضح رہے کہ شام کے بحران میں بین الاقوامی سطح پر چین ایک طرف  روس کے ساتھ مل کر کاروائیاں کر رہا ہے اور دوسری طرف امریکہ کے ردعمل سے بھی بچنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اقوام متحدہ  کی سلامتی کونسل میں شام سے متعلق 7 نزاعی رائے شماریوں میں چین نے عام طور پر ہچکچاہٹ   کا ووٹ استعمال کیا تھا اور امریکہ ا ور روس کے باہمی حساب کتاب سے باہر رہنے کو ترجیح دی تھی۔

تین سپر پاورز میں سے شام  میں کسی بھی شکل میں فوجی نہ بھیجنے والا واحد ملک چین تھا۔



متعللقہ خبریں