آنگ سان سوچی سے آکسفورڈ یونیورسٹی نے خطاب واپس لے لیا

میانمارکی رہنما  آنگ سان سوچی کو" فریڈم آف آکسفورڈ" کا جو نامور خطاب دیا تھا وہ روہنگیا مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے ظلم و جبر اور قتل عام پر خاموشی اختیار کرنے پر واپس لے لیا گیا

آنگ سان سوچی سے آکسفورڈ یونیورسٹی نے خطاب واپس لے لیا

میانمارکی رہنما  آنگ سان سوچی کو" فریڈم آف آکسفورڈ" کا جو نامور خطاب   دیا  تھا وہ اب میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے ظلم و جبر اور قتل عام پر ان کی جانب سے کوئی ہمدردانہ اور ٹھوس موقف اختیار نہ کئے جانے کی پاداش میں واپس لے لیا گیا ہے۔ 1997 میں یہ خطاب انہیں میانمار میں جمہوریت کی بحالی کیلئے کی جانے والی جدوجہد کے اعتراف کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔

 اس موقع پر کونسل نے مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان کی حمایت  پر خطاب واپس لینے کی قرارداد منظور کی اور اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہاکہ موجودہ صورتحال میں آنگ سان سوچی اس باوقار خطاب کی اہل نہیں۔

 دریں اثناء آکسفورڈ سٹی کونسل لیڈر باب پرائس نے بھی مذکورہ خطاب سوچی سے واپس لینے کی تائید کی۔

اس سلسلے میں سٹی کونسل کا ایک خصوصی اجلاس 27 نومبر کو ہوگا جہاں آنگ سان سوچی سے خطاب واپس لینے کی توثیق کی جائے گی۔

 



متعللقہ خبریں