سعودی عرب مغرب میں اپنا تشخص بہتر بنانے کی دھن میں

سعودی حکومت کا مقصد مغربی ذرائع ابلاغ کے ساتھ اتحاد اتحاد قائم کرنا ہے تا کہ سیاسی حریفوں اور دشمنوں کی جانب سے دکھائی جانے والی مملکت کی غلط تصویر کو دوبارہ سے مغرب کے سامنے صحیح صورت میں پیش کیا جا سکے

سعودی عرب مغرب میں اپنا تشخص بہتر بنانے کی دھن میں

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے ایک طویل رپورٹ شائع کی ہے۔

 رپورٹ میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے زیر قیادت ایک منصوبے پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

 اس منصوبے کا مقصد مملکت میں اصلاحات کے منصوبے کے سلسلے میں مغربی دنیا کے بڑے ذرائع ابلاغ کے ساتھ اتحاد اتحاد قائم کرنا ہے تا کہ سیاسی حریفوں اور دشمنوں کی جانب سے دکھائی جانے والی مملکت کی غلط تصویر کو دوبارہ سے مغرب کے سامنے صحیح صورت میں پیش کیا جا سکے۔

سب جانتے ہیں کہ 11 ستمبر کے واقعات کے بعد سے سعودی عرب کے حوالے سے غلط فہمیوں پر مبنی تصویر سامنے آتی رہی تاہم، وقت کے ساتھ مملکت کی پالیسی نے کام کیا اور 23 جنوری 2015 کو شاہ سلمان کی تخت نشینی کے ساتھ ہی سعودی عرب میں اصلاحات کے ایک عہد کا آغاز ہوا جس نے سماجی اور ثقافتی زندگی کے کئی پہلوؤں کو چُھوا۔

امریکی اخبار کے مطابق، اگست 2017 میں سعودی ولی عہد نے کینیڈا کے میڈیا کے بڑے کھلاڑی اور "VICE" میڈیا نیٹ ورک کے بانی شین اسمتھ سے ملاقات کی اور ممکنہ تعاون پر بات چیت کی۔

وال اسٹریٹ جنرل کا کہنا ہے کہ سعودی حکومت کے زیر کنٹرول ایک کمپنی کو یہ ذمے داری سونپی گئی ہے کہ وہ مملکت میں سماجی اصلاحات کے حوالے سے فلمیں تیار کرے۔

اخبار کے مطابق اس تجویز کا مقصد تعلقات کو مشترکہ منصوبے کی سطح تک پہنچانا ہے اور مغربی میڈیا کے ساتھ سعودی عرب کے تعلق کی سپورٹ کے لیے جاری مشترکہ منصوبوں کا سلسلہ وسیع کرنا ہے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل نے ان سرگرمیوں اور تعلقات کو کمزور کر دیا ہے۔

اتحاد کی مذکورہ کوششوں کا مقصد مغربی ذرائع ابلاغ کی شراکت سے ایک عظیم میڈیا سلطنت کا قیام ہے جس کی قیادت سعودی عرب کے ہاتھ میں ہو

 



متعللقہ خبریں