انطالیہ 5 ویں انٹرنیشنل ٹریننگ کا گالا ڈنر

ہم غیر جانبدار   خبر رسانی سے   ہٹ کر متوازن خبر رسانی کے  حق میں ہیں۔  ایک انسان ہونے کے ناطے  جذبات  کو شامل  کیے بغیر  خبریں   پیش   کرنا نا ممکن ہے

انطالیہ 5 ویں انٹرنیشنل ٹریننگ کا گالا ڈنر

ترکی ریڈیو ٹیلی ویژن کارپوریشن  کے  ڈائریکٹر جنرل ابراہیم ایرین   کا کہنا ہے کہ وہ    پریس  کے   غیر جانبدار نہ  ہو سکنے  کی سوچ  رکھتے ہیں اور  غیر جانبداری کے بجائے   متوازن خبر رسانی  کے  حق میں  ہیں۔

ٹی آرٹی کے  اپنے تجربات سے مستفید کرانے کے  لیے انطالیہ میں  منعقدہ  5 ویں   انٹرنیشنل  میڈیا ٹریننگ  پروگرام  کے   دائرہ   کار میں  گالا ڈنر کا اہتمام کیا گیا۔

ڈائریکٹر جنرل ٹی آرٹی  ابراہیم ایرن نے     70 ملکوں سے  162 صحافیوں کے  شرکت کردہ       اس پروگرام کے گالا    کے موقع پر  اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ   اس  ٹریننگ پروگرام کا مقصد ہمارے ادارے کے تجربات سے عالمی میڈیا  اداروں  کو استفادہ کرانا ہے۔  اس  دائرہ عمل میں  ٹیلی ویژن، خبر رسانی، ریڈیو اور نیو میڈیا    شعبوں  کے حوالے سے  مختلف پینلز اور نشستوں کا اہتمام کیا گیا ہے۔

ٹیلی ویژن سیکٹر میں ترک   ڈرامہ سیریلز  کے   حالیہ 15 برسوں میں  قابل ذکر سطح کی ترقی کرنے پر توجہ مبذول کراتے ہوئے ایرن نے  اس بات پر زور دیا کہ ترکی سے ابتک ایک سو سے زائد ڈراموں کو بیرون ملک  برآمد کیا گیا ہے۔

ٹی آرٹی پروڈکشن دیریلش ایرتعرل   کے  ترک  نشریاتی   تاریخ میں  سب سے زیادہ ریٹنگ   کی حامل ایک   ڈرامہ  سیریل ہونے  کی جانب اشارہ کرنے والے ایرین نے بتایا کہ   یہ ڈرامہ سیریل  1 سو سے زائد ملکوں میں  دکھائی جا رہی ہے۔  دنیا بھر میں نشر ہونے والے ڈراموں  کا 30 فیصد ترک ڈراموں پر مشتمل ہے جو کہ ایک  بڑی   اہم شرح ہے۔  آیا کہ ایسا کیوں ہے؟ ترک ڈراموں میں  ترک  کثیر   سرمائے کی حامل  ثقافت   کی عکاسی کی جاتی ہے۔  جس  میں   عالمی ناظرین   گہری دلچسپی  لیتے ہیں۔

دنیا بھر میں  خبر رسانی کے ایک مختلف    رخ پر گامزن  ہونے کا ذکر کرنے والے جناب ابراہیم ایرین نے  کہا کہ" عالمی سطح پر خبر رسانی    میں اس سے قبل  ایک۔ دو چینلز  کا نام  ہی نمایاں ہوتا تھا ،  تا ہم اب مختلف چینلز  اس  کام کو احسن طریقے سے  سر انجام دے رہے ہیں۔ ٹی آرٹی کے طور پر ہم  خبر رسانی میں  ایک مختلف نقطہ نظر    کو عام کرنے کی امید  رکھتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اب یہ چیز غیر جانبداری پر   نہیں  چل سکتی۔ ہم غیر جانبدار   خبر رسانی سے   ہٹ کر متوازن خبر رسانی کے  حق میں ہیں۔  ایک انسان ہونے کے ناطے  جذبات  کو شامل  کیے بغیر  خبریں   پیش   کرنا نا ممکن ہے،  کیونکہ    یہ خبریں  انسانوں کے لیے ہی ہوتی ہیں۔  ہم خبروں کی لسان میں  اس محل و قوع کے   منفرد  پہلووں  اور قصے کہانیوں   کو بھی شامل کرنے کا ہدف رکھتے ہیں۔ ہماری آپ  لوگوں سے بھی درخواست ہے کہ آپ بھی انسانی محور  پر  متوازن اور   اپنے ضمیر کی آواز  کی عکاسی کرنے والی  خبر رسانی کی مفاہمت کو اپنائیں۔"

 

 

 

 



متعللقہ خبریں