فلسطین: ایک مدت سے الماریوں میں پڑے قرآن کریم کے تاریخی نسخوں کی نشاندہی

قرآن کریم کے ان تاریخی نسخوں  کا پیش  لفظ سیّد مصطفیٰ افندی  کے ہاتھ سے لکھا گیا ہے  اور نسخوں کی چھپائی  1309 ہجری بمطابق 1887 عیسوی کو عثمانی مطبع میں ہوئی

فلسطین: ایک مدت سے الماریوں میں پڑے قرآن کریم کے تاریخی نسخوں کی نشاندہی

فلسطین کی ایک مسجد میں عثمانی سلطان عبدالحمید خان دوئم کے دور میں عثمانی مطبع میں چھاپے گئے قرآن کے 3  نسخوں کی تصدیق ہوئی ہے۔

اطلاع کے مطابق فلسطین کے تاریخی شہروں میں سے ایک اور آج اسرائیل کی سرحدوں کے اندر واقع شہر طیبہ میں سلطان عبدالحمید دوئم کے دور میں  تعمیر کی گئی عمر بن خطاب مسجد  کے موذن سعید اعظم  کو گذشتہ دنوں مسجد کی مرمت کے کاموں کے دوران مسجد میں موجود قرآن کریم کے نسخوں  کا جائزہ لیتے ہوئے ان تاریخی نسخوں کا  علم ہوا۔

قرآن کریم کے ان تاریخی نسخوں  کا پیش  لفظ سیّد مصطفیٰ افندی  کے ہاتھ سے لکھا گیا ہے  اور نسخوں کی چھپائی  1309 ہجری بمطابق 1887 عیسوی کو عثمانی مطبع میں ہوئی ۔ مسجد میں ان تاریخی نسخوں  کی موجودگی سے مسجد کے امام اور جماعت  ایک طویل عرصے سے نا واقف تھی۔

مسجد کے موذن سعید اعظم نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نسخے دیگر نسخوں  کے ساتھ مسجد کی الماریوں میں پڑے تھے اور مسجد کی مرمت کا کام شروع ہونے تک ہم ان کی موجودگی سے بے خبر تھے۔

انہوں نے کہا کہ عثمانی خلیفہ سلطان عبدالحمید دوئم کے دور میں قائم ہونے والے مطبع میں چھاپ کر فلسطین بھیجے جانے والے قرآن کریم کے یہ نسخے ہمارے لئے خاص مفہوم رکھتے ہیں۔



متعللقہ خبریں