ڈبلن نشان یا میرے پاس رہے گا یا سُو کی کے پاس: بوب گیلڈوف

میں،  میانمار  کی وزیر خارجہ اور صدارتی امور کی ذمہ دار وزیر اعلٰی آونگ سان سو کی  کے ساتھ ایک ہی تمغہ نہیں رکھنا چاہتا  لہٰذا  "ڈبلن نشان آزادی " کو واپس کر دوں گا: بوب گولڈوف

ڈبلن نشان یا میرے پاس رہے گا یا سُو کی کے پاس: بوب گیلڈوف

آئرلینڈ  کے گلوکار بوب گیلڈوف  نے کہا ہے کہ میں،  میانمار  کی وزیر خارجہ اور صدارتی امور کی ذمہ دار وزیر اعلٰی آونگ سان سو کی  کے ساتھ ایک ہی تمغہ نہیں رکھنا چاہتا  لہٰذا  "ڈبلن نشان آزادی " کو واپس کر دوں گا۔

اپنے تحریری بیان میں بوب گیلڈوف نے سو کی کے بارے میں  کہا ہے کہ "ان کا ہمارے شہر سے تعلق ہم سب کے لئے باعث شرمندگی بن رہا ہے۔ میں نہیں چاہتا کے رخائن کے مسلمانوں کو نسلی صفائی کے لئے بے یارومددگار چھوڑنے والے فرد کے ساتھ میرا کسی قسم کا کوئی تعلق ہو"۔

انہوں نے کہا ہے کہ اگر ڈبلن بلدیہ اسمبلی سو کی کے تمغے کو منسوخ کرتی ہے تو اس صورت میں وہ اپنے تمغے کو دوبارہ قبول کر سکتے ہیں۔

گذشتہ ماہ آکسفورڈ بلدیہ اسمبلی نے بھی ،سوکی کو دئیے گئے، آکسفورڈ نشان آزادی  کو واپس لینے کا فیصلہ کیا تھا۔

سو کی 1964 سے 1967 کے سالوں میں آکسفورڈ یونیورسٹی میں زیر تعلیم رہیں اور یونیورسٹی  میں لگے ہوئے ان  کے پورٹریٹ کو بھی ہٹا دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ میانمار کی فوج نے مسلح عسکریت پسندوں کے خلاف جدوجہد کو وجہ بنا کر رخائن میں نہتے شہریوں پر حملے کئے جن میں 25 اگست سے لے کر اب تک ہزاروں مسلمان ہلاک ہو چکے ہیں۔

میانمار میں 1970  سے لے کر اب تک روہینگیا مسلمان نسلی صفائی کا سامنا کر رہے ہیں اور 2 ملین مسلمان آبادی کی اکثریت اطراف کے ممالک  میں پناہ لئے ہوئے ہے۔



متعللقہ خبریں