جنوبی کوریا کا مطالبہ: جاپان کے شاہ آکی ہیٹو معافی مانگیں

جاپان کے شاہ آکی ہیٹو  کا، دوسری جنگ عظیم  اور اس سے قبل استبدادیت کے سالوں میں کوریا جزیرہ نما میں جاپانی فوج کی طرف سے، جنسی زیادتی کا نشانہ بنائی جانے والی عورتوں سے معافی مانگنا ضروری ہے: مون ہی سانگ

جنوبی کوریا کا مطالبہ: جاپان کے شاہ آکی ہیٹو معافی مانگیں

جنوبی کوریا کی قومی سمبلی کے اسپیکر مون ہی سانگ نے کہا ہے کہ جاپان کے شاہ آکی ہیٹو  کا، دوسری جنگ عظیم  اور اس سے قبل استبدادیت کے سالوں میں کوریا جزیرہ نما میں جاپانی فوج کی طرف سے، جنسی زیادتی کا نشانہ بنائی جانے والی عورتوں سے معافی مانگنا ضروری ہے۔

امریکن ٹیلی ویژن چینل بلوم برگ  کے لئے جاری کردہ انٹرویو میں  اس سوال کے جواب میں کہ سیول اور ٹوکیو کے درمیان 1910 سے 1945 کے دوران قبضے کے سالوں میں زیادتی کا شکار ہونے والی کوریئن عورتوں کی یاد منانے سے شروع ہونے والے سفارتی بحران کو کیسے حل کیا جا سکتا ہے؟ مون ہی سانگ نے کہا ہے کہ اس کے لئے جاپانی حکام کے منہ سے نکلنے والا ایک معافی کا لفظ کافی ہو گا۔ میں امید کرتا ہوں کہ شاہ آکی ہیٹو  تخت سے اترنے سے قبل یہ فریضہ ادا کریں گے۔

آکی ہیٹو کے اس دور کے شاہ ہیرو ہیٹو کا بیٹا ہونے کی یاد دہانی کرواتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "نتیجتاً وہ جنگی جرائم کے مرکزی فاعل  کے بیٹے ہیں۔ لہٰذا اگر وہ کسی متاثرہ بوڑھی عورت کا ہاتھ پکڑ کر حقیقتاً افسوس کا اظہار کریں تو یہ مسئلہ ایک لمحے میں اور ہمیشہ کے لئے حل ہو جائے گا۔

واضح رہے کہ ایک اندازے کے مطابق 1910-1945 کے سالوں میں 2 لاکھ کوریئن عورتیں جاپانی فوجیوں کی زیادتی کا نشانہ بنیں۔

متاثرہ عورتوں کو ہرجانے کی ادائیگی کے لئے2015 میں جنوبی کوریا اور جاپان کے درمیان سمجھوتہ طے پایا تھا۔

اس سمجھوتے کے دائرہ کار میں ماضی میں غلام بنائی جانے والی عورتوں کے نفسیاتی علاج معالجے، جذباتی  مسائل کے حل اور مادی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے  سیول میں ایک وقف قائم کیا گیا تھا۔

جاپان نے تاحال بقید حیات متاثرہ عورتوں کو ہرجانے کی ادائیگی کے لئے فنڈ قائم کیا تھا اور اس کے بدلے میں جنوبی کوریا سے تقاضا کیا تھا کہ اب اس موضوع پر الزام تراشیوں  والے بیانات اور روّیے سے پرہیز کیا جائے۔

سمجھوتے کی رُو سے متاثرہ  اور تاحال بقید حیات متاثرہ عورتوں  اور ان کے کنبے کے افراد کو تقریباً 9 ملین ڈالر  امدادی فنڈ  کی ادائیگی  کی جانا تھی تاہم 2016 میں کورئین عورتوں نے ہرجانے کی پیشکش کو رد کر کے مطالبہ کیا تھا  کہ شاہ آکی ہیٹو سے ان سے رو برو معافی مانگیں۔

جنوبی کوریا کے صدر  مون جائی ان نے بھی یہ کہہ کر کہ کورئین عوام کو جذباتی حوالے سے یہ  سمجھوتہ منظور نہیں ہے موضوع کو دوبارہ بحث کے لئے کھول دیا تھا۔



متعللقہ خبریں