امریکہ میں پہلی بار مسلم خواتین کانگریس کیلئےمنتخب

امريکی صومالیہ سے تعلق رکھنے والی پناہ گزين پس منظر کی حامل الہان عمر منيسوٹا سے کامياب ہوئيں جب کہ فلسطينی تارکين وطن والدین کی بيٹی اور ايک سماجی کارکن رشيدہ طالب کو ڈيٹرائٹ سے چنا گيا

امریکہ میں پہلی بار مسلم خواتین کانگریس کیلئےمنتخب

امریکی وسط مدتی انتخابات میں پہلی بار دو مسلم خواتین بھی منتخب ہوکر ایوان میں پہنچ گئیں۔ امريکی صومالیہ سے تعلق رکھنے والی پناہ گزين پس منظر کی حامل الہان عمر منيسوٹا سے کامياب ہوئيں جب کہ فلسطينی تارکين وطن والدین کی بيٹی اور ايک سماجی کارکن رشيدہ طالب کو ڈيٹرائٹ سے چنا گيا۔

دونوں ہی ڈيموکريٹک پارٹی کی ارکان ہيں۔ امريکی کانگريس ميں اب مسلمان ارکان کی تعداد تين ہو گئی ہے، جن ميں يہ دو خواتين بھی شامل ہيں۔ يہ امر اہم ہے کہ ’کونسل آن امريکن اسلامک ریليشنز‘ کے مطابق رواں سال اب تک امريکا ميں مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم ميں اکيس فيصد کا اضافہ نوٹ کيا گيا ہے۔

ان انتخابات کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں چار مسلم امیدوار بھی حصہ لے رہے تھے، جن میں 2 خواتین بھی شامل ہیں۔ دونوں ہی مسلم خواتین نے جیت حاصل کر لی ہے۔

راشدہ طلائب مشی گن کے تیرہویں کانگریشنل ضلع سے ڈیموکریٹ امیدوار تھیں۔ان کے مقابلے میں ریپبلکنز کا کوئی امیدوار سامنے نہ آیا۔

ایک اور ڈیموکریٹ مسلم خاتون الہان عمر منی سوٹا سے پانچویں کانگریشنل ضلع کا انتخاب 72 فیصد ووٹ حاصل کرکے جیت گئیں۔

انکے مدمقابل ریپبلکن امیدوار نے صرف بائیس فیصد ووٹ حاصل کیے۔اس سے پہلے کوئی مسلم خاتون کانگریس سے منتخب نہیں ہوئیں۔



متعللقہ خبریں