سن 2050 میں دنیا کی آبادی 10 ارب ہو گی، اقوام متحدہ

لگائے گئے تخمینے کی رو سے سن 2050 میں  عالمی آبادی  کا نصف صرف  نو ممالک پر مشتمل ہو گا

سن 2050 میں دنیا کی آبادی 10 ارب  ہو گی، اقوام متحدہ

اس بات کا اندازہ لگایا گیا ہے کہ سالانہ 84 ملین کی تعداد میں اضافہ ہونے والی علامی آبادی سن 2050 میں دس ارب اور اس صدر کے آخیر تک 11٫2 ارب تک  بڑھ جائیگی۔

اقوام متحدہ کے فنڈ برائے نفوس  کے  گزشتہ صدی اور موجودہ آبادی کی صورتحال اور آئندہ کے 50 برسوں کے حوالے سے تخمینوں پر مبنی  اس رپورٹ  کے مطابق 2 ہزار برس پیشتر دنیا  کی آبادی 300 ملین تھی۔

عالمی  آبادی 1600 میں 600 ملین ، 1804 میں ایک ارب، 1900 میں ڈیڑہ ارب اور 2011 میں 7 ارب تھی۔

آبادی میں   تیز ترین رفتار  سے اضافہ 1950 کے بعد  دیکھنے میں آیا   جس کے بعد اب عالمی نفوس 7٫7 ارب ہے۔

2050 تک اس تعداد میں 2٫2 ارب کے اضافے کا تخمینہ لگایا گیا ہے تو  اس میں خطہ افریقہ کا حصہ 1٫3 ارب ،  خطہ ایشیا  کا  حصہ 750 ملین   جبکہ اس کے بعد لاطینی  اور شمالی امریکہ  ہوں  گے۔

اس دورانیہ میں یورپ وہ واحد خطہ ہے جہاں کی نفوس میں کمی  آئے گی۔

دریں اثناء  لگائے گئے تخمینے کی رو سے سن 2050 میں  عالمی آبادی  کا نصف صرف  نو ممالک پر مشتمل ہو گا،  یہ ممالک  بھارت، نائجیریا ، کونگو،  پاکستان ، ایتھوپیا،  تنزانیہ، متحدہ امریکہ، یوگنڈا اور انڈونیشیا    ہیں۔


 



متعللقہ خبریں