سلامتی کونسل کے 10 اراکین کا سیکرٹری جنرل کو مراسلہ

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 10 اراکین کا سیکرٹری جنرل انتونیو گٹرس کے نام مراسلہ، اسرائیل سے فلسطین کی مقبوضہ زمین پر غیر قانونی رہائشی بستیوں  کی تعمیر کو بند کرنے  کے مطالبے پر مبنی فیصلے کی پاسداری کی جائے

سلامتی کونسل کے 10 اراکین کا سیکرٹری جنرل کو مراسلہ

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 15 اراکین میں سے 10 نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گٹرس کو مراسلہ روانہ کر کے کونسل سے، اسرائیل سے فلسطین کی مقبوضہ زمین پر غیر قانونی رہائشی بستیوں  کی تعمیر کو بند کرنے  کے مطالبے پر مبنی فیصلے کی پاسداری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

چین، فرانس، بولیویا، آئیوری کوسٹ، استوائی گنی، قزاقستان، کویت، ہالینڈ، پیرو اور سویڈن  نے امریکہ کے اپنے سفارت خانے کو بیت المقدس منتقل کرنے اور غزہ کی سرحد پر احتجاجی مظاہروں میں اسرائیلی فوج  کی مداخلت میں 59 افراد کی شہادت کے بعد اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل گٹرس کو مراسلہ روانہ کیا ہے۔

مراسلے میں، سال 2016 میں کروائی جانے والے رائے شماری   میں کہ جس میں امریکہ نے ہچکچاہٹ کا ووٹ استعمال کیا تھا ، قبول کئے جانے والے فلسطین کی مقبوضہ زمین پر اسرائیل  کی طرف سے یہودی رہائشی بستیوں کی تعمیر کو بند کئے جانے پر مبنی اقوام متحدہ کے فیصلے کے عدم اطلاق پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کو اپنے فیصلے پر قائم رہنا چاہیے اور ان فیصلوں کو بامعنی بنانا چاہیے بصورت دیگر  بین الاقوامی نظام کا اعتبار خطرے میں پڑ جائے گا۔

کونسل کے 10 اراکین نے مراسلے میں گٹرس سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ وہ اس فیصلے کے اطلاق کے بارے میں ہر 3 ماہ میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو پیش کی گئی رپورٹوں کو تحریری شکل میں پیش کریں۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو کا حق رکھنے کی وجہ سے امریکہ  اسرائیل کے لئے ڈھال کا کردار ادا کر رہا ہے ۔

23 دسمبر 2016 میں سلامتی کونسل کی رائے شماری میں امریکہ کے ہچکچاہٹ کے ووٹ کے ساتھ قبول ہونے والے فیصلے میں اسرائیل کے زیر قبضہ فلسطینی زمین پر تمام غیر قانونی رہائشی بستیوں کی تعمیر کو فوری اور مکمل طور پر  بند کرنے  کا مطالبہ کیا گیا تھا۔



متعللقہ خبریں