امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی کشمکش میں مزید تیزی

حالیہ ہفتوں میں امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی کشیدگی سے عالمی منڈیوں عدم استحکام میں تیزی کا مشاہدہ ہو رہا ہے

امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی کشمکش میں مزید تیزی

حکومت ِ چین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  کے  50 ارب ڈالر  کے علاوہ مزید  ایک سو ارب ڈالر کی محصولات  عائد کیے جانے کی ہدایت کے  حوالے سے   اس بات پر زور دیا ہے کہ "چاہے کچھ بھی  کیوں نہ ہم اپنے قومی مفادات  کا تحفظ  کریں گے۔"

چینی وزارت  کامرس  نے ایک تحریری اعلان  میں کہا ہے کہ "واشنگٹن انتظامیہ کی جانب سے چین اور عالمی برادری کی مخالفت کے باوجود یکطرفہ طور پر  محض  اپنے تجارتی مفادات کو بالائے طاق رکھنے کی صورت میں  چین،  اس کے خلاف  وسیع پیمانے   کی تدابیر اختیار کرنے پر مجبور ہو جائیگا۔ کیونکہ ہمارے  قومی مفادات    ہر چیز سے  بالا تر ہیں۔"

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ چین کے خلاف مزید ایک سو ارب ڈالر کے محصول پر غور کریں۔

خیال رہے کہ امریکہ اس سے قبل چین سے   درآمد کی جانے والی سینکڑوں اشیا ء پر پہلے ہی 50 ارب ڈالر کا محصول عائد کر چکا ہے  جس میں  اب مزید 100 ارب ڈالر کا اضافہ زیر بحث ہے۔

حالیہ ہفتوں میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی سے عالمی منڈیوں عدم استحکام دیکھا گیا ہے۔

خیال رہے کہ امریکہ کی  یہ تازہ تجویز چین کی جانب سے 106 اہم امریکی مصنوعات پر محصول عائد کرنے کے بعد سامنے آئی ہے۔

چینی وزیر خارجہ وینگ یی نے ٹرمپ کے بیان پر رد عمل  میں کہا ہے کہ چین اور امریکہ  کو دو عالمی طاقیں ہونے کا مد نظر رکھتے ہوئے  ایک دوسرے سے  برابری اور احترام کی بنیاد پر  برتاؤ کرنا چاہیے۔ چین کے خلاف تجارتی پابندیوں کی بڑی چھڑی لہرانے سے امریکہ نے غلط ہدف کا انتخاب کیا ہے۔



متعللقہ خبریں