سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس،امریکی فیصلے کی شدید مذمت

سلامتی کونسل  اجلاس کے شرکا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانے سے فلسطین میں خونی تصادم کی راہ ہموار ہوگی

سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس،امریکی فیصلے کی شدید مذمت

سلامتی کونسل کا ہنگامی  اجلاس نیویارک میں اقوام متحدہ کے مرکزی دفتر میں منعقد ہوا جس میں ارکان ممالک کے نمائندگان نے شرکت کی۔

 اجلاس کے شرکا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانے سے فلسطین میں خونی تصادم کی راہ ہموار ہوگی۔

سوئیڈن کے نمائندے اولوف اسکوگ نے کہا کہ یہ اقدام خطے میں کشیدگی اور عدم استحکام کو بڑھانے کے لیے ایندھن کا کردار ادا کرے گا، ٹرمپ کا اعلان امریکہ  اور اسرائیل کے بہت سے دوستوں کی درخواست کے خلاف ہے، اس اقدام سے سوئیڈن ، یورپی یونین اور عالمی برادری کے نزدیک یروشلم کی حیثیت  میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

دوسری جانب امریکی نمائندہ نکی ہیلی نے تنقید کو مسترد کردیا اور اقوام متحدہ پر الزام عائد کیا کہ وہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن اقدامات کو نقصان پہنچارہا ہے، یہ ادارہ اسرائیل کے مخالفت کے سب سے بڑے اداروں میں سے ایک ہے۔

ہیلی نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ یقینی تھا، یروشلم ہی اسرائیل کا دارالحکومت ہے، امریکہ  تاحال پابند ہے کہ وہ  آخری امن معاہدے پر عمل کرائے اگر دونوں فریق راضی ہوں تو ہم آج بھی دو ریاستوں کے قیام کے معاملے پر متفق ہیں لیکن اقوام متحدہ جانبداری برت رہاہے اور کئی  سالوں سے اسرائیل کے لیے جارحیت پیدا کرنے والا سب سے بڑا ادارہ بن چکا ہے جس نے اپنے عمل سے  مشرق وسطیٰ میں امن اقدامات کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔

 



متعللقہ خبریں