امریکہ۔ جنوبی کوریا مشترکہ جنگی مشقوں نے جوہری جنگ  کے خطرے میں اضافہ کر دیا ہے

امریکہ کے بغیر کسی وقفے سے سال بھر جنگی مشقیں کرنے سے ثابت ہوتا ہے کہ شمالی کوریا کا منتخب کردہ راستہ درست ہے اور ہم آخر تک اس راستے پر آگے بڑھنا جاری رکھیں گے: ژا سونگ نام

امریکہ۔ جنوبی کوریا مشترکہ جنگی مشقوں نے جوہری جنگ  کے خطرے میں اضافہ کر دیا ہے

شمالی کوریا کے اقوام متحدہ کے لئے مستقل نمائندے ژا سونگ نام  نے وارننگ دی ہے کہ امریکہ کی جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ جنگی مشقوں نے جوہری جنگ  کے خطرے میں اضافہ کر دیا ہے۔

ژا نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گٹرس کو ارسال کردہ  مراسلے میں کہا ہے کہ تین جنگی بحری جہازوں کے ساتھ امریکہ کی  جنگی مشقوں نے کوریا جزیرہ نما میں  موجود کشیدگی میں اضافہ کر دیا ہے اور اس وقت جزیرے میں حالات جس قدر  خراب ہیں ایسے خراب کبھی نہیں ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا ہے کہ امریکہ نے سرد جنگ کے دور کے جوہری صلاحیت والے B-52  اسٹریٹجک طیاروں کو دوبارہ سے فعال کر دیا ہے اس کے علاوہ جنوبی کوریا کے ساتھ امریکہ کی مشترکہ جنگی مشقوں نے جزیرے میں جوہری جنگ کے خطرے میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔

ژا نے کہا ہے کہ امریکہ کے بغیر کسی وقفے سے سال بھر جنگی مشقیں کرنے سے ثابت ہوتا ہے کہ شمالی کوریا کا منتخب کردہ راستہ درست ہے اور ہم آخر تک اس راستے پر آگے بڑھنا جاری رکھیں گے۔

واضح رہے کہ کوریا جزیرہ نما کے اطراف میں شروع کی  جانے والی جنگی مشقوں میں جنوبی کوریا سے 7 بحری فلیٹ اور امریکی بحری بیڑے سے USS تھیوڈور روزویلٹ، USS رونالڈ ریگن اور USS نمٹز نامی تین ائیر کرافٹ کیرئیر  اور 11 جنگی بحری جہاز شامل ہیں۔

 مشقیں 14 نومبر تک جاری رہیں گی۔



متعللقہ خبریں