ٹویٹ واشنگٹن پوسٹ کی خبر کا جواب تھا خبر کی تصدیق نہیں: سیکولوف

میرا ٹویٹ صدر ٹرمپ کے بارے میں FBI کی طرف سے کسی دعوے کی توثیق کا مفہوم نہیں رکھتا بلکہ 5 پوشیدہ ذرائع کے حوالے سے شائع کی گئی روزنامہ واشنگٹن پوسٹ  کی خبر کو دیا گیا جواب تھا: جے سیکولوف

ٹویٹ واشنگٹن پوسٹ کی خبر کا جواب تھا خبر کی تصدیق نہیں: سیکولوف

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وکیلوں  میں سے جے سیکولوف نے "میرے موکل کی فیڈرل تفتیشی بیورو FBI  کی طرف سے تفتیش کی گئی ہے  " سے متعلق ٹویٹ کے بعد جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے کسی دعوے کی موجودگی کی توثیق نہیں کی۔

امریکہ کے CNN ٹیلی ویژن چینل  پر بات کرتے ہوئے سیکولوف نے کہا ہے کہ "گذشتہ ہفتے ٹرمپ سے تفتیش کی گئی" سے متعلق میرا ٹویٹ   صدر ٹرمپ کے بارے میں FBI کی طرف سے کسی دعوے کی توثیق کا مفہوم نہیں رکھتا۔

انہوں نے کہا کہ وہ ٹویٹ 5 پوشیدہ ذرائع کے حوالے سے شائع کی گئی روزنامہ واشنگٹن پوسٹ  کی خبر کو دیا گیا جواب تھا، خبر کی تصدیق نہیں تھی۔

ٹرمپ کی ٹویٹ  کے کسی دعوے کے موجودگی  کی تصدیق کی اہمیت کا حامل ہونے سے متعلق سوال کے جواب میں سیکولوف نے کہا کہ "جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ ٹویٹر میں بعض حدود موجود ہیں، صدر کا جواب روزنامہ واشنگٹن پوسٹ کی خبر  کا جواب تھا۔ وہ ایک ٹویٹ میں وہ تمام چیزیں بیان نہیں کر سکتے کہ جو وہ کہنا چاہتے ہیں اور یہ بات آپ کے سوال کی سادہ ترین وضاحت ہے"۔

واضح رہے کہ واشنگٹن پوسٹ نے پوشیدہ ذرائع کے حوالے سے شائع کردہ  خبر میں لکھا تھا کہ رشئین دعوے کی پیروی کرنے والے خصوصی اٹارنی رابرٹ مُلر  ، سابق FBI ڈائریکٹر جیمز کو معطل کرنے  سے متعلق ٹرمپ سے بھی تفتیش کر رہے ہیں۔

اس کے جواب میں ٹرمپ نے اپنے ٹویٹر پیج سے جاری کردہ  ٹویٹ میں کہا تھا کہ "میری تفتیش وہ شخص کر رہا ہے کہ جس نے مجھ سے FBI ڈائریکٹر کو بے دخل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ وِچ ہنٹ ہے" ۔



متعللقہ خبریں