آذربائیجان میں 20 جنوری کے خونی واقعات کی یاد منائی جا رہی ہے

آج آذربائیجان میں 20 جنوری 1990 میں پیش آنے والے خونی واقعات کی یاد منائی جا رہی ہے ۔

آذربائیجان میں 20 جنوری کے خونی واقعات کی یاد منائی جا رہی ہے

آج آذربائیجان میں 20 جنوری 1990 میں پیش آنے والے خونی واقعات کی یاد منائی جا رہی ہے ۔

آذربائیجان  کی  آزادی اور علاقائی سالمیت کے جدوجہد  میں 20 جنوری 1990 کا دن  بہادری کے دن کے طور پر رقم ہوا ہے ۔ آذربائیجان سے علاقے کا مطالبے کرنے والے آرمینیا کی قبضہ آور کوششوں اور سابق سوویت یونین کیطرف سے ان کو نظر انداز کرنے والی آذری عوام نے سڑکوں پر نکل کر ان کیخلا ف احتجاجی مظاہروں کا آغاز کیا ۔

سوویت فوج نے ان مظاہروں  کوکچلنےکے لیے فوجی طاقت کا  استعمال کیا ۔ آذربائیجان کے عوام نے اپنی آزادی اور  وقار  کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئےوطن عزیز کا دفاع کیا ۔

روسی فوج نے 19  اور  20 جنوری کی شب  ہنگامی حالات  کا اعلان کیے بغیر آذربائیجان میں  سخت فوجی کاروائیاں شروع کر دیں ۔ روسی وحشت سے 137 افراد ہلاک اور 744 شدید زخمی ہوئے جبکہ 841 افراد کو حراست میں لے لیا    گیا ۔ان واقعات میں 200 مکانات اور سرکاری عمارتوں کو   تباہ  کر دیا گیا تھا  ۔

آذربائیجانی عوام نے روسی فوج کے ہر طرح کے مظالم کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ۔ شدید مزاحمت کے نتیجے میں ملک  کو آزادی نصیب ہوئی ۔ کئی سال گزر جانے کے باوجود  اس 20 جنوری کیاس  خونی شب کو فراموش نہیں کیا جا سکے گا ۔ آذر بائیجان میں ہر سال  20 جنوری کو یوم سیاہ کے طور پر منایا جاتا ہے ۔



متعللقہ خبریں